اب جعلی اکاؤنٹ میں پیسہ آئے گا تو نیب کو ثابت کرنا پڑے گا

سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کے بعد اب جعلی اکاؤنٹ میں پیسہ آئے گا تو ان کو نہیں ثابت کرنا پڑے گا بلکہ نیب کو ثابت کرنا پڑے گا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جس ملک میں قانون طاقتور کے لیے ہو تو وہ ملک تباہ ہو جاتا ہے اس کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ کمی ایک ہی چیز کی ہے اور وہ ہے انصاف کی۔‘’جب تک پاکستان کے بڑے مجرم قانون کے نیچے نہیں آتے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔‘عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اسمبلی میں جو کچھ ہوا ملک کی توہین ہے۔ جن لوگوں نے جس بے شرمی سے نیب ترامیم کی ہیں انہیں جیل میں ہونا چاہیے۔‘’یہ امپورٹڈ حکومت اسی لیے اسمبلی میں آئی تاکہ اپنے کیسز ختم کر سکے۔ خرم دستگیر نے کہا کہ عمران خان نے جیل میں ڈال دینا تھا۔ شہباز شریف نے جیل میں اس لیے ہونا تھا کہ اس کے اور اس کے بیٹے پر نیب کیسز ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’اب ان کے سیاستدان بچ جائیں گے نیب کیسز سے۔ آصف زرداری بچ جائے گا۔ کوئی پاپڑ والا تھا اور کوئی چینی والا تھا۔ انہوں نے شق چودہ میں ترمیم کی ہے جس کے مطابق جعلی اکاؤنٹ میں جو پیسے آخر میں ہوں گے اس پر کارروائی ہوگی چاہیے وہ چند روپے ہوں۔‘’آمدن سے زائد اثاثے ہوں تو ہمیں بتانا پڑتا ہے کہ یہ پیسے کہاں سے آئے۔ انہوں نے اب نیب پر بوجھ ڈال دیا ہے کہ وہ ثابت کرے۔ اب ان کے سب لوگ بچ جائیں گے۔ سیکشن 21 کے مطابق بیرون ملک سے آنے والی اطلاعات کیس کا حصہ نہیں ہوں گی۔‘سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’منی لانڈرنگ نیب سے نکال کر ایف آئی اے کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ایف آئی اے رانا ثنااللہ کے نیچے ہے۔ اب یہ بے نامی سے بچ جائیں گے۔ اجازت دی جا رہی ہے کہ اگرکوئی منسٹر یا بیوروکریٹ جس کے نام مرضی جائیداد کرے۔‘’انہوں نے ساڑھے تین سال بلیک میل کیا کہ انہیں این آر او دیا جائے۔ جب فیٹف کا قانون بن رہا تھا تو انہوں نے پوری کوشش کی کہ قانون پاس نہیں ہوگا۔ انہوں نے واک آؤٹ کیا۔‘عمران کا کہنا تھا کہ ’اب ان کو این آر او ٹو مل گیا ہے۔ پہلے مشرف نے انہیں این آر او دیا۔ ان کی جو دولت باہر پڑی ہے اسے پکڑنا ممکن نہیں ہے۔ امیر ملکوں کو فائدہ ہوتا ہے کہ پیسہ ان کے ملک میں آ رہا ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’ان کو مہنگائی کی کوئی فکر نہیں تھی اور نہ ہی معیشت کی فکر تھی۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

’ان کو مہنگائی کی کوئی فکر نہیں تھی اور نہ ہی معیشت کی فکر تھی۔ ان کی اہلیت ایسی ہے کہ یہ تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کا مقصد چوری بچانا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔ میں آپ کو کال دوں گا اور ان کے خلاف جدو جہد کرتا رہوں گا۔‘’جن لوگوں نے اس حکومت کو ہم پر مسلط کیا ہے انہیں تاریخ معاف نہیں کرے گی۔‘

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

four × 2 =

Back to top button