اسمارٹ واچ پارکنسن کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ثابت

پارکنسن ایک ایسی اعصابی بیماری ہے جس میں دماغ میں موجود کچھ سیل مردہ ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھرمیں تقریباً ایک کروڑ سے زائد افراد اس کا شکار ہیں اس بیماری میں جسم کی حرکات متاثر ہونے لگتی ہیں۔ اس کی ابتدا اکثر ہاتھوں میں رعشہ یعنی لرزش اور مختلف عضلات و پٹھوں کے اکڑنے سے ہوتی ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ جسم آہستہ آہستہ اپنا توازن کھونے لگتا ہے، چلنا پھرنا یہاں تک کہ بات کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔

اس مرض کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی اس سے بچائو کے لیے قبل از وقت کوئی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم کچھ ادویات اورورزش اس کی علامات کی شدت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب کامیاب آزمائش کے بعد  برطانیہ میں پارکنسن کے ہزاروں مریضوں کو ایک خاص اسمارٹ واچ پہنائی جائے گی جس سےان کی نگہداشت، نگرانی اور علاج میں بہت فائدہ ہوگا۔یہ ایک کائنٹیگراف گھڑی ہے جو مریض کی حرکات وسکنات کو نوٹ کرتی ہے، بے عملی سے آگاہ کرتی ہے اور دوا لینے کے وقت پر خبردار بھی کرتی ہے۔ اگر مریض کے ہاتھوں اور بدن میں غیرمعمولی رعشہ آجائے تو اس کی فوری اطلاع تیمارداروں اور بالخصوص ڈاکٹروں کو بھیجی جاتی ہے۔اس کے علاوہ مریض کے ڈیٹا کو 24 گھنٹے یا دنوں کے حساب سے ڈاکٹروں کو بھی بھیجا جاسکتا ہے جس سے ڈاکٹر مریض کی صحت پر بطورِ خاص نظر رکھ سکیں گے۔ یہی گھڑی مریضوں کی نیند اور فزیوتھراپی کی ضروریات سے بھی خبردار کرے گی۔پارکنسن کے مریضوں کے جسم اور ہاتھوں میں غیراضطراری حرکات اور لرزہ طاری ہوتا ہے اور بسا اوقات دورے کی شکل بھی اختیار کرلیتا ہے۔ جب تجرباتی طور پر کچھ مریضوں کو اسے پہنایا گیا تو انہوں نے بہت افاقہ محسوس کیا کیونکہ مدد بروقت ملی اور دوا لینے میں بھی آسانی رہی۔پارکنسن کا دورہ دن کے مختلف اوقات میں مختلف ہوسکتا ہے اور مریضوں پر اس کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اب کامیاب آزمائش کے بعد برطانیہ کے ہزاروں مریضوں کو یہ گھڑی دی جارہی ہے۔ Adsence Ads 300X250

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

5 × one =

Back to top button