اف ہر مہینے پیرئيڈز!!! کچھ ایسی باتیں جن کی وجہ سے لڑکیاں پیرئيڈز سے نفرت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں

آخر ساری تکلیفیں عورتوں کے ليۓ ہی کیوں ہوتی ہیں ، ہر مہینے گرمی سردی پیریڈز بھی بھگتیں اور اس کے بعد بچے پیدا کرنے کی تکلیف اور نو مہینے تک بچے کو کوکھ میں لے کر گھومنا غرض ہر تکلیف عورتوں کے لیۓ ہی کیوں ہوتی ہیں مرد تو مزے سے گھومتے پھرتے رہتے ہیں ۔
یہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو کہ عام طور پر لڑکیاں ایک دوسرے سے کرتی نظر آتی ہیں مگر یہ صرف باتیں ہی ہوتی ہیں کیوں کہ یہی لڑکیاں ہر مہینے نہ چاہتے ہوۓ بھی پیریڈز کا سامنا کرتی ہیں اور تپتی رہتی ہیں
لڑکیوں کی پیریڈز سے نفرت کرنے کی کچھ بڑی وجوہات
زیادہ تر لڑکیاں پیریڈز سے بہت چڑتی ہیں اور ان کا آنا ان کے لیۓ طبی حوالوں سے جتنا بھی مفید ہو مگر ان کے بہت سارے منصوبوں کے لیۓ اور پروگراموں کو خراب ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ پیریڈز کے آنے سے چڑنے لگتی ہیں ایسی ہی کچھ وجوہات آج ہم آپ کو بتائيں گۓ

1: سارے پیسے تو پیڈز پر خرچ ہو جاتے ہیں

عام طور پر آج بھی ہمارے گھرانوں میں پیریڈز کے بارے میں بات کرنا سخت معیوب سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر گھرانوں میں لڑکیاں اپنے گھر والوں سے پیڈز نہیں منگوا سکتی ہیں اور ان کو یہ سب اپنی پاکٹ منی سے منگوانا پڑتا ہے جو ان کے بجٹ پر ایک بوجھ محسوس ہوتا ہے اور ناحق کا خرچہ ہوتا ہے
اپنی پاکٹ منی پر مارے جانے والے اس شب خون کی وجہ سےاکثر لڑکیوں پیرئيڈز سے نفرت پر مجبور ہو جاتی ہیں

2: ہر مہینے کی بیماری

عام طور پر پیریئڈز کی آمد سے قبل ہی ٹانگوں اور کمر میں درد شروع ہو جاتا ہے جو کہ پیریڈز کے دوران بھی رہتا ہے اور ان کے ختم ہونے کے بعد بھی شدید چکر اور کمزوری کی صورت میں رہتا ہے
ہر مہینے ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہونا جس کا علاج کوئی نہیں ہوتا اور نہ ہی جس سے نجات ممکن ہے ایسی صورتحال لڑکیوں کو پیریڈز کو ناپسند کرنے پر مجبور کر ڈالتی ہین

3: موڈ سوئنگ

پیریئڈز کے آنے کا براہ راست تعلق ہارمون سے ہوتا ہے اور جسم میں ہارمون کی بڑھتی کم ہوتی مقدار کا براہ راست اثر لڑکیوں کے موڈ پر بھی پڑتا ہے اور ان کا کبھی ہنسنے کا دل چاہتا ہے اور کبھی رونے کا ۔ کبھی بور ہوتی ہین تو کبھی بلاوجہ خوش ہو جاتی ہیں
یہ تمام معاملات کسی بھی انسان کو پاگل ثابت کرنے کے لیۓ کافی ہوتے ہیں مگر بے چاری لڑکیاں پاگل نہین ہوتی ہیں بلکہ ان کو پیرئيڈ ہوتے ہین جو ان کو پاگل بنا ڈالتے ہیں

4: کپڑوں پر بار بار اسپاٹ لگنے کی فکر

اگر یہ کہا جاۓ کہ لڑکیوں کی آدھی عمر آگے دیکھنے کے بجاۓ پیچھے دیکھنے میں گزر جاتی ہے تو کچھ غلط نہ ہو گا ۔ اسکول میں بنچ سے اٹھتے ہوۓ یہی ڈر کہ کہیں اسپاٹ نہ لگ جاے
بس سے اترتے چڑھتے یہی ڈر یہاں تک کہ آدھی زندگی اسی غم میں ختم ہو جاتی ہے کہ کہیں اسپاٹ نہ لگ جاۓ یہی وجہ ہے کہ لڑکیوں پیرئيڈز سے سخت نفرت کرتی ہین

5: ہر خاص موقع کا مزہ خراب

عام طور پر موقع عید یا کسی تہوار کا ہو یا کہیں پکنک اور سیر و تفریح کا ہر ہر موقع پر یہ پیرئيڈز لڑکیوں کے ارمانوں اور ان کے پلان پر پانی پھیرنے کے لیۓ کافی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لڑکیاں ان کو کوستی نظر آتی ہیں
مگر یاد رکھیں ! اللہ تعالی نے کوئي بھی کام حکمت کے بغیر نہیں کیا اور نہ ہی اس دنیا میں کسی چیز کو بغیر مقصد کے اتارہ ہے اسی طرح پیرئيڈز بھی خواتین کے سب سے اہم کام یعنی بچے پیدا کرنے کے لیۓ سب سے ضروری ہوتے ہیں اس کے علاوہ طبی حوالوں سے ہارمون کسی بھی عورت کے جسم کا اہم ترین حصہ ہوتے ہیں ان کے تناسب کو برقرار رکھنے کے لیۓ بھی پیرئيڈز بہت ضروری ہوتے ہیں اس وجہ سے یاد رکھیں یہ رحمت ہین زحمت نہیں ہیں

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

2 × five =

Back to top button