الیکشن کمیشن حکومت کے ساتھ سازش میں ملوث ہے: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ’حکومت اور الیکشن کمشنر کی وجہ سے ہماری قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ اگر ملک کو مسائل اور اس دلدل سے نکالنا ہے تو اس کے لیے صاف اور شفاف الیکشن ضروری ہیں،

بدھ کو ایکسپریس نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن کمیشن حکومت کے ساتھ سازش میں ملوث ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پی پی اور ن لیگ نے بڑے بڑے سیٹھ پالے ہوئے ہیں جو ان کو ان کو الیکشن میں فنڈ کرتے ہیں۔’الیکشن کمشنر کی سلیکشن پر لوگوں نے شور مچایا تھا یہ ن لیگ کا آدمی ہے، ہم الیکشن کمشنر کے خلاف سپریم جوڈیشنل کونسل میں جائیں گے اور کل الیکشن کمیشن کے باہر پُرامن احتجاج بھی کریں گے۔‘عمران خان نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے سینٹ الیکشن میں پیسہ استعمال ہوا، ان سے بھی پوچھا جائے کہ بندے خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسہ کہاں سے آتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم کل الیکشن کمشنر کے خلاف پرامن احتجاج کررہے ہیں۔عمران خان نے کہا ہے کہ فوج ملکی سالمیت کا اہم حصہ ہے مگر آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سارے ملک کو ہولڈ نہیں کرسکتے کیونکہ معیشت بھی بہت اہم جز ہے۔’ہمیں نومبر کو سوچنے کے بجائے ابھی کا سوچنا چاہیے کیونکہ حالات بہت خراب ہیں، ٹیکسٹائل کی فیکٹریاں بند ہورہی ہیں، توانائی کا شدید بحران ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے روزگار بند ہورہے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ مہنگائی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے، عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے تو ایسی صورت میں ہمیں معیشت کا سوچنا چاہیے، سارے مسائل کا واحد حل فوری اور شفاف انتخابات ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ’حکومت الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردے پھر ہم بیٹھ کر بات کرنے کے لیے بھی تیار ہیں مگر ن لیگ، پی پی کے ذہن میں بس ایک بات ہے کہ یہ کسی بھی طرح پی ٹی آئی کا کھیل سے باہر کردیں مگر یہ کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ عوام ہمارے ساتھ ہیں‘۔پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ دھاندلی کے 183طریقے ہوتے ہیں اگر ای وی ایم آجائے تو 130 طریقے خود بہ خود ختم ہوجائیں گے، شہباز شریف اور زرداری الیکشن میں ہار کے ڈر سے انتخابات کا اعلان نہیں کررہے۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہم کسی صورت قومی اسمبلی میں واپس نہیں جائیں گے اگر وہاں جاکر بیٹھ گئے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ان کے سہولت کار ہیں، اگر حکومت اسمبلی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ دے تو بیٹھ کر بات چیت ضرور ہوسکتی ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

thirteen + fourteen =

Back to top button