الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر الیکشن کمیشن کا مؤقف سامنے آگیا

الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق ترمیم کی منظوری پر الیکشن کمیشن کا مؤقف بھی سامنے آگیا۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کہتے ہیں آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال ہوگی یا نہیں، ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، 14 مراحل سے گزرنا ہوگا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس ریاض فتیانہ کی زیر صدارت ہوا جس میں سوال اٹھا کہ آئندہ انتخابات آخر کيسے ہوں؟۔ جس پر سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ای وی ایم کے استعمال میں چیلنجز درپیش ہیں، یہ طے ہونا بھی باقی ہے کہ ایک پولنگ اسٹیشن پر کتنی الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں ہوں گی۔ان کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال سے پہلے 14 مراحل سے گزرنا ہوگا، 3 سے 4 مزید پائلٹ پروجیکٹس بھی کرنا پڑیں گے۔سیکریٹری الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال ہوں گی یا نہیں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ارکان اسمبلی نے بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی صورت میں ای وی ایم کے استعمال، تکنیکی خرابی کی صورت میں ووٹنگ کے متبادل نظام اور مشینوں کی دیکھ بھال سے متعلق بھی سوالات کئے۔سیکریٹری الیکشن کمیشن کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس وقت الیکشن کمیشن میں ان تمام معاملات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔تفصیلات جانیے: اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا زیادہ فائدہ کس پارٹی کوہوگا؟دوسری جانب وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ہوں گے، کونسی مشین استعمال کرنی ہے، فیصلہ الیکشن کمیشن کریگا، 2 سال ہيں، مشين يہاں کی چاہئیں تو بن سکتی ہیں، باہر سے منگوانی ہیں تو الیکشن کمیشن منگواسکتا ہے۔اٹارنی جنرل نے اس حوالے سے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشين کا انتخاب الیکشن کمیشن کرے گا، حکومت معاونت کریگی، الیکشن کمیشن کو جن ترامیم پر تحفظات تھے وہ مؤخر کردیں، الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر تحفظات دور کئے جائیں گے۔اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ خوشی ہے اوورسیز پاکستانیوں کو ملکی جمہوری نظام کا حصہ بنادیا، اوورسیز پاکستانی چاہتے ہیں کہ ان کا ملک ترقی کرے، ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

6 + 18 =

Back to top button