امریکا کا چین کو کووڈ کا ذمہ دار قرار دینے کا معاملہ، فیس بک کا چین پر بڑا الزام

فیس بک نے چین کے صارفین  پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے جعلی اکاؤنٹ بنا کر دنیا کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ امریکا کووڈ-19 کا ذمہ دار چین کو قرار دینے کی کوشش کررہا تھا۔

فیس بک نے بدھ کو بتایا کہ جعلی سوئس بائیولوجسٹ ولسن ایڈورڈز دراصل ان صارفین کی پروڈکٹ تھی جن کا تعلق چین کے ریاستی انفرااسٹرکچر کمپنیوں سے تھا۔الزام کے مطابق صارفین نے جعلی اکاؤنٹ سے دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی کہ امریکا کووِڈ-19 کا ذمہ دار چین کو قرار دینے کی کوششیں کر رہا ہے۔فیس بک جِسے اب میٹا کے نام سے جانا جاتا ہے نے اپنی سالانہ تھریٹ رپورٹ میں بتایا کہ امریکا کے خلاف ان دعووں کو 24 جولائی سے 10 اگست تک پھیلایا گیا اور ان خبروں کو عالمی میڈیا اور چین کے ریاستی میڈیا نے اٹھا لیا۔10 اگست کو فیس بک نے ایڈورڈز کے اکاؤنٹ کو تب بند کیا جنب بیجنگ میں قائم سوئس سفارتخانے نے اس بات کی تصدیق کی کہ ولسن ایڈورڈز نامی کسی شہری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔یہ اکاؤنٹ فیس بک اور ٹوئٹر پر اپنے جعلی دعوے شائع کرنے سے 12 گھنٹے پہلے بنا تھا۔اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کے ذرائع اور محققین نے شکایت کی ہے کہ ان پر امریکا کی جانب سے وباء نے کہاں اور کیسے جنم لیا پر ادارے کی تحقیق کے منصوبے کے حوالے سے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔تاہم اس بات پر تاحال کوئی سائنسی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے کہ وباء کہاں اور کیسے وجود میں آئی۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button