انسانی دماغ جیسے کمپیوٹر جلد حقیقت میں بدلنے والے ہیں، تحقیق

انسانی دماغ کی طرح سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے کمپیوٹرز جلد ہی حقیقت کے روپ میں ڈھلنے والے ہیں۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک راڈار کے مطابق انسانی دماغ کے طرح عصبی نیٹ ورک رکھنے والی کمپیوٹر چپ اس دہائی کے آخر تک سامنے آسکتی ہیں۔اس بات کا انکشاف سائنس جریدے ’ ایڈوانسڈ فنکشنل میٹریلز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں کیا گیا ہے۔ جسے اسٹاک ہوم کے کے ٹی ایچ رائل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔اس تحقیق میں شامل ریسرچرز کا کہنا ہے کہ وہ 2 ڈی مادے کی مدد سے دنیا کا پہلا الیکٹرو کیمیکل 3 ٹرمینل ٹرانسسٹر (MXenes ) تیار کرنے میں کام یاب ہوچکےہیں جو انسانی دماغ کی طرح اعصابی نیٹ ورک بنانے کا اہل ہے۔اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے کے ٹی ایچ کے ایسو سی ایٹ پروفیسر میسک حامدی کا کہنا ہے کہ ٹائٹینیم کاربائڈ کمپاؤنڈ سے بننے والے اس میموری کمپونینٹ نے تجربہ گاہ میں ’ کلاسیکل ٹرانسسٹر کی تکمیل میں زبردست کارکرگی‘ ظاہر کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹروکیمکل رینڈم ایکسز میموری ( ای سی آر ایم) مصنوعی ذہانت کے نیٹ ورک میں سائنیپٹک خلیے ( وہ جوڑ جہاں اعصابی خلیے ایک ساتھ ملتے ہیں) جیسا طرز عمل ظاہر کرتے ہوئے ڈیٹا جمع اور پراسیسس کرنے کے لیے ون اسٹاپ شاپ کے طور پر کام کرتا ہے۔MXenes کے نام سے بنایا گیا یہ ٹرانسسٹر مستقبل میں ایسے اعصابی کمپیوٹر کی تیاری میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے جو آج کے روایتی کمپیوٹرز کےبرعکس ہزاروں گنا توا نائی بچاتے ہوئے انسانی دماغ سے قریب تر افعال سر انجام دے سکیں گے۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published.

four × four =

Back to top button