اولاد کا نہ ہونا یا جسم میں ہر وقت درد رہنا ۔۔ ( اسٹریس ) ذہنی تناؤ میں مبتلا خواتین میں پائی جانے والی وہ علامات جو ان کے لئے نقصان دہ ہیں

ذہنی دباؤ (اسٹریس) کیا ہوتا ہے؟ ذہنی دباؤ کا مطلب آپ کے جذبات کا آپ پر حاوی ہونا یا کسی بھی شہ سے خطرہ محسوس ہونا۔ آج ہر دس میں سے 1 شخص ذہنی تناؤ کا شکار ہے لیکن ان میں سے کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں جو اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اپنی ذہنی حالت کو سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

علامات:

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اسٹریس سے متعلق ایک تصویر شائع کی تھی جس میں ان علامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو بتاتے ہیں کہ آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں یا نہیں۔
۔ سر میں درد رہنا

۔ گردن اور کاندھے میں درد

۔ کمر میں درد

۔ بھوک کا نہ لگنا

۔ پیٹ خراب رہنا

۔ سینے پر دباؤ/ بھاری ہونا

۔ پٹھوں میں کھچاؤ

۔ گلے میں گانٹھ کا ہونا

اگر آپ میں یہ علامات ہیں تو آج ہی کسی اچھے ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کروائیں۔ دماغی صحت کو نظرانداز ہرگز نہ کریں یہ بہت ضروری ہے۔ خاص کر خواتین اس مسئلے کو ہلکہ نہ لیں کیونکہ اضطراب، تناؤ اور ڈپریشن یہ وہ دماغی مسائل ہیں جو اچھے خاصے انسان کو برباد کردیتے ہیں, اور یہ کس طرح متاثر کرتا ہے یہ ہم آپکو بتاتے ہیں۔

ذہنی تناؤ سے خواتین کو ہونے والے نقصانات:

بانجھ پن:

اسٹریس اور بانجھ پن یہ وہ موضوع ہے جس پر ماہرین کافی عرصے سے ریسرچ کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں کچھ کا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ براہ راست بانجھ پن کی وجہ نہیں ہے بلکہ یہ بالواسطہ طور پر اثرانداز ہوتا ہے. کیونکہ جب خواتین اسٹریس کا شکار ہوتی ہیں تو اس کا سیدھا سیدھا اثر ان کی طرز زندگی پر پڑتا ہے. مثال کے طور پر ضرورت سے زیادہ یا کم کھانا, نیند کا نہ آنا, موٹاپہ اور اسکے علاوہ کسی بھی شے کی ذیادتی آپکے جسمانی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے جو آگے چل کر بانجھ پن اور حمل کے ٹھراؤ میں رکاوٹ بنتی ہے.

بالوں کا ضرورت سے زیادہ گرنا:

اچھے اور گھنے بال ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں ذہنی تناؤ کی وجہ سے آپ کی یہ خواہش ادھوری رہ سکتی ہیں؟ ریسرچ کے مطابق جو خواتین حد سے زیادہ اسٹریس لیتی ہیں ان کے بال جلدی اور ضرورت سے زیادہ گرتے ہیں. لیکن کیونکہ اسٹریس اور بال جھڑنا دونوں مستقل مسئلہ نہیں ہے اس لیے وقت رہتے علاج سے آپ اس پر باآسانی قابو پا سکتی ہیں.

ماہواری کے عمل میں رکاوٹ:

اگر آپ تناؤ کا شکار ہیں تو آپ کے ماہواری کا عمل طویل، چھوٹا یا پھرمکمل طور پر رک بھی سکتا ہے، اسکے علاوہ ماہواری میں درد اور زیادہ ہوتا ہے. جب آپ تناؤ میں ہوتے ہیں تو آپ کا جسم کورٹیسول پیدا کرتا ہے۔ جو آگے چل کر پیریڈز میں تاخیر یا ہلکے پن کا باعث بن سکتا ہے. ڈاکٹر کولیکونڈہ کہتی ہیں۔ “اگر تناؤ جاری رہتا ہے، تو آپ لمبے عرصے تک بغیر ماہواری کے جا سکتے ہیں”۔

اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ آپ کے پاس آرام کرنے کا وقت ہے تناؤ سے بچنے کی کوشش کریں۔ باقاعدگی سے ورزش کریں جیسے دوڑنا، تیراکی, یوگا, اسکے علاوہ آپ سانس لینے کی مشقیں بھی کر سکتی ہیں۔ بس آپ اپنی خوراک میں صحت مند غذا کا استعمال کریں, مثبت سوچ اپنائیں اور منفی خیالات کو کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں.

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

four − three =

Back to top button