اٹھتے بیٹھے گھٹنوں سے آوازیں آتی ہیں ۔۔ جانیں گھٹنوں سے آنے والی آوازیں کون سی خطرناک بیماری میں مبتلا کر سکتی ہیں؟

دلچسپ اور حیرت انگیز خبریں تو بہت ہیں لیکن کچھ ایسی ہوتی ہیں جو صارفین کو حیرت زدہ بھی کردیتی ہیں۔ اس خبر میں آپ کو بتائیں گے کہ گھٹنوں میں سے آواز کیوں آتی ہے؟اکثر نماز پڑھتے وقت یا پھر زمین پر بیٹھتے وقت گھٹنوں سے آوازیں آتی ہیں، لیکن دراصل یہ آواز آتی کیوں ہے؟ کیا کسی نے کبھی غور کیا ہے؟دراصل ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ بعض اوقات گھٹنوں کے درمیان جوڑ بڑھ جانے کی وجہ سے یا پھر جوڑ صحیح جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ایسا اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ اگر آپ کے گھٹنوں کے گرد غیر ضروری پٹھنے بن جاتے ہیں، اگر آپ کے گھٹنوں کے گرد چوٹ لگی ہو، اور اس کا مناسب علاج نہ ہوا ہو، تو یہ صورتحال اس طرح خطرناک ہو سکتی ہے کہ آپ کے گھٹنے کے ارد گرد غیر ضروری پٹھے بننے کا سبب بن سکتا ہے۔چونکہ یہ غیر ضروری پٹھے گھٹنوں کے کچھ حصوں کے ساتھ الجھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے ٹک ٹک کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔امریکا کے بیلر کالج کے محققین نے لوگوں کے ایک بڑے گروپ کے مابین مطالعہ کروایا جن کے گھٹنوں سے چٹخنے کی آوازیں باقاعدگی سے آتی تھیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 75 فیصد لوگوں کو اوسٹیو آرتھرائیٹس تھا ، جس کا مطلب ہے کہ ان کے جوڑ چڑھے ہوئے تھے۔آرتھرائیٹس ہونے سے سوزش اور ٹیڑھا پن ہوسکتا ہے جس کے سبب حرکت کی صورت میں ٹک ٹک کی آوزیں آسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ، اس تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جن لوگوں کے بعض اوقات گھٹنوں سےچٹحنے کی آوازیں آتی ہیں وہ ایک سال میں تقریبا دو مرتبہ گٹھیا کی تکلیف دہ درد سے گزرتےہیں۔ جوکہ اچھی علامت نہیں۔ خوش قسمتی سے گھٹنوں سے چٹخ جیسی آواز پیدا ہونا بہت زیادہ خطرناک بات بھی نہیں ہے۔اس بات کو یقینی بنانے کے لئے آپ چند ضروری چیزیں کرسکتے ہیں کہ آسٹیو ارتھرائٹس یا باقاعدگی سے گٹھیا پیدا ہونے کا خطرہ ہر ممکن حد تک کم ہوسکے۔ مثال کے طور پر ،روزانہ ورزش کرنے سے آپ کو اس مسئلے سے نجات حاصل ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ روزانہ سائیکل چلانے سے بھی گھٹنے سے نکلنے والی آوازوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

ten − four =

Back to top button