اپنے بچوں کی ویکسینیشن میں غفلت نہ برتیں ، انہیں وبائی امراض سے بچاؤ کے ٹیکے ضرور لگوائیں، غفلت خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔۔۔

بچوں کی پیدائش والدین اورسارے خاندان کے لئے خوشی کا موقع ہو تی ہے۔ ایسےمیں والدین کی ذراسی بےاحتیاطی یاغفلت بچوں کی عمربھرکی معذوری یا بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لئے گورنمنٹ کی طرف سے بھی اس بات کی بار بار یاددہانی کروائی جاتی ہے کہ بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس ضرورمکمل کروایا جائے۔ تاکہ آئندہ کی تکلیف سے بچا جا سکے۔ حفاظتی ٹیکوں کا کورس 6 ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔

پیدائش کے فوراً بعد:

جس میں پیدائش کے فوراً بعد بی سی جی(تپِ دق کے لئے)، او پی وی 0(پولیو کے قطرے) اور ہیپاٹائٹس۔ بی کا ٹیکہ لگوایا جاتا ہے۔

پیدائش کے6 ہفتے بعد:

دوسرا ٹیکہ چھ ہفتے کے بعد او پی وی 1 (پولیو کے قطرے)اور روٹا وائرس1(قے،دست وغیرہ کے لئے)، نیوموکوکل1(نمونیہ کے لئے) اور پینٹا ویلنٹ 1 کی ویکسین لگائی جاتی ہے۔

پیدائش کے 10 ہفتے بعد:

تیسری دفعہ دس ہفتے بعد او پی وی 2، روٹا وائرس 2 ،نیوموکوکل 2، پینٹا ویلنٹ 2 کی ویکسین لگائی جاتی ہے۔

پیدائش کے 14 ہفتے بعد:

چوتھی دفعہ چودہ ہفتے بعد او پی وی3، آئی پی وی، نیوموکوکل3، پینٹا ویلنٹ 3 کی ویکسین لگائی جاتی ہے۔

9 ماہ کی عمرمیں:

پانچویں دفعہ نو ماہ کی عمرمیں ایم آر1، آئی پی وی 2 ،اور ٹائیفائیڈ کی ویکسین لگائی جاتی ہے۔

15 ماہ کی عمرمیں:

چھٹی دفعہ پندرہ ماہ کی عمر میں ایم آر 2 کی ویکسین لگائی جاتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے حفاظتی ٹیکوں کے بارے میں عوام میں تحفظات یا ہچکچاہٹ کو دنیا بھر میں صحت عامہ کو لاحق 10 اہم ترین خطرات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے پولیو اور خسرے جیسی بیماریوں کی مثال دی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق کیونکہ بہت سے لوگ ویکسین سے خائف ہیں اور اس کے محفوظ ہونے پر یقین نہیں رکھتے اس لیے وہ اپنے بچوں کو پولیو اور خسرے جیسی بیماریوں سے بچانے کے لیے ادویات کا استعمال نہیں کرتے نتیجہ یہ کہ یہ بیماریاں جن سے بچا جا سکتا ہے، یہ بھی گزشتہ برسوں میں پھیلی ہیں۔ حفاظتی ٹیکوں یا قطروں کے بارے میں شکوک اتنے ہی پرانے ہیں جتنا کہ خود ویکسینیشن۔ لیکن ان حفاظتی ٹیکوں میں خناق، کالی کھانسی، ٹی بی، ڈائریا، پولیو، نمونیہ، خسرہ، چیچک وغیرہ سے بچاؤ کی ویکسین موجود ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

three + two =

Back to top button