اپوزیشن کا قانون سازی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد، اپوزیشن جماعتوں کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصرکے اپوزیشن لیڈر شہبا ز شریف کو لکھے گئے خط کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن آج ہی اسپیکر قومی اسمبلی کے خط کا جواب بھجوا دے گی۔ اس کے علاوہ اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن نے قانون سازی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔اس مو قع پر مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سعد رفیق نے کہاکہ  ہم نے اسپیکر کے خط پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور مثبت ہی جواب دینگے۔واضح رہےکہ اسپیکراسد قیصر نے پارلیمنٹ میں انتخابی اصلاحات سمیت دیگر قوانینِ کی منظوری کےلیے اپوزیشن سے تعاون مانگا ہے۔گزشتہ روز اپوزیشن کی جانب سے حکومت سے پارلیمنٹ میں قانون سازی میں تعاون کےلیے شرائط سامنے آئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہےکہ اپوزیشن نے نیب ترمیمی آرڈیننس سمیت صدر کے تمام حالیہ جاری کردہ آرڈینینسز بھی بحث کےلیے پیش کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ذرائع نےبتایا کہ اپوزیشن نےحکومت سے مطالبہ کیا کہ جلد بازی میں قومی اسمبلی سے پاس کردہ بیس قوانین بھی ایوان میں واپس لائے جائیں۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس متنازع بلزپراتفاق رائے کے بعد بلایا جائے۔ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کا خط مل گیا ہے، کل مشاورت کے بعد جواب دیں گے، قانون سازی کےلیے اپوزیشن کا مؤقف سنا جائےاوراعتماد میں لیا جائےتوحکومت سے تعاون کریں گے۔دوسری جانب حکومت کی کارکردگی اورعدم مشاورت پرحکومت کی اتحادی جماعتوں نے بھی تحفظات کا اظہارکیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دو مرکزی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے اہم معاملات پراتحادیوں کےساتھ مشاورت نہ کرنے اورحکومت کی کارکردگی پرتحفظات ہیں۔پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ق) کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نےاہم فیصلہ سازیوں میں مسلم لیگ (ق) سے مشاورت نہیں کی، حکومت کو جب ہمارے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے تو بات کرتی ہے ورنہ نہیں۔متحدہ قومی موومنٹ ذرائع کا بھی کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں پر ۔شدید تحفظات ہیں۔ Sq. Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published.

eleven − 11 =

Back to top button