ایلون مسک کے لیے ایک کے بعد ایک بڑا دھچکا

امریکا میں ٹیسلا پر 8 لاکھ 17 ہزار گاڑیوں کو واپس منگانے کے لیے زور ڈالا جا رہا ہے کیوں کہ گاڑیوں کا سیٹ بیلٹ الارم سسٹم ڈرائیوروں کو بیلٹ لگانے کے لیے خبردار نہیں کر رہا۔

ایلون مسک کی کمپنی کے لیے یہ ہفتہ انتہائی برا رہا ہے کیوں کہ اس ہفتے تین دنوں کے اندر دو بار گاڑیاں واپس منگوانی پڑ گئیں ہیں اور گاڑیوں کی 100 سے زائد شکایت اچانک سامنے آئی ہیں۔بڑی تعداد میں گاڑیاں واپس منگوانے کا یہ تازہ ترین حکم نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کی طرف سے جاری کیا گیا۔انتظامیہ کی جانب سے ایسا اس لیے کیا گیا کہ ٹیسلا کی متاثرہ گاڑیاں وفاقی موٹر وہیکل سیفٹی معیار پر پوری نہیں اتر رہی تھیں۔جس کا مطلب ہے کہ آواز کے ساتھ ڈرائیور کو خبردار نہ کرنا کہ ڈرائیور نے سیلٹ بیلٹ نہیں کسی ہے، در اصل ڈرائیور کو تصادم کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے خطرے میں ڈالنا ہے۔ان متاثرہ گاڑیوں میں کچھ 2021-2022 کی ماڈل S اور ماڈل X کاریں ہیں۔ ان کے علاوہ 2017-2022 تک کی ماڈل 3 کی کاریں اور 2020-2022 تک ماڈلY کی گاڑیاں ہیں۔فروخت کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 سے ٹیسلا نے امریکا میں 10 لاکھ سے کم گاڑیاں بیچی ہیں، لہٰذا 8 لاکھ 17 ہزار گاڑیوں کو واپس منگوانا ٹیکسز میں قائم کمپنی کافی مسئلے کی بات ہے۔ٹیسلا کا کہنا تھا کہ کمپنی کو اس معاملے سے متعلقہ کسی قسم کے تصادم یا زخمیوں کی خبر نہیں ہے اور آنے والے دنوں میں وہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپ ڈیٹ کریں گے۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published.

twenty + one =

Back to top button