بلیک ہولز میں سونا، چاندی بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے: تحقیق

بلیک ہولز کے متعلق نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلیک ہولز میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ سونا اور چاندی اور دیگر دھاتیں بناسکیں۔

سائنس میگزین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سونا، چاندی، تھوریم اور یورینیم جیسی دھاتوں کی پیداوار توانائی سے بھرپور ماحول میں ہوتی ہے خلاء میں سُپر نووا (ستاروں کے آپس میں ٹکرانے کا عمل) کے ذریعے ہی اتنی بڑی مقدار میں توانائی خارج ہوتی ہے جس سے یہ دھاتیں بنتی ہیں۔ماہرین نے تحقیق میں بتایا ہے کہ بلیک ہول اپنے گرد گھومتی ڈِسک سے دھول اور گیس نگل لیتا ہے اور ممکنہ طور پر انہیں کمیائی عناصر میں بدل دیتا ہے۔ایسی سخت ماحول میں نیوٹرینو کے تیزی سے اخراج سے پروٹونز نیوٹرونز میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس سے نیوٹرونز کی وہ مطلوبہ تعداد پیدا ہوتی ہے جو بھاری دھاتیں بنانے کےلئے کافی ہے۔جرمنی میں جی ایس آئی ہیلم ہولٹز سینٹر فار ہیون آئن ریسرچ کے ماہر طبعی فلکیات اولیور جسٹ نے بتایا ہے کہ اپنی تحقیق میں ہم نے منظم انداز سے اُن مظاہر پر غور کیا ہے جو نیوٹرینوز کے اخراج کی شرح کا سبب بنتے ہیں اور پروٹونز سے نیوٹرون بنتے ہیں۔اس کےلئے ہم نے کمپیوٹر سیمولیشنز کا سہارا لیا اور یہ معلوم کیا کہ بلیک ہولز کے گرد چیزوں کو نگلے جانے کے وقت بننے والی ڈسک نیوٹرونز سے بھرپور ہوتی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدا میں بگ بینگ کے بعد خلا میں زیادہ دھاتیں موجود نہیں تھیں۔ جب تک ستارے نہیں بنے اور ایک دوسرے سے نہیں ٹکرائے اور ان کا مرکز ایک دوسرے میں پیوست نہیں ہوا اس وقت تک کائنات صرف ہائیڈروجن اور ہیلیم گیس سے بھری تھی۔ نیوکلیئر فیوژن کی وجہ سے کائنات میں بھاری دھاتوں کا پیدا ہونا شروع ہوا، کاربن سے لیکر لوہے تک ہر وہ دھات ستاروں کے آپس میں ٹکرانے سے بنیں جن کے نام آج ہم جانتے ہیں۔ Sq. Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published.

twenty + 16 =

Back to top button