بِگ بینگ کے کچھ عرصے بعد وجود میں آنے والے بلیک ہول کے آثار دریافت

ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے سُپر میسو بلیک ہول کے آثار کی شناخت کی ہے جو 13 ارب 80 کروڑ سال قبل ہونے والے بِگ بینگ کے تھوڑے عرصے بعد ہی وجود میں آگیا تھا۔

سِمیولیشنز نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ ایسی اشیاء وجود رکھتی ہوں گی لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی حقیق دریافت ہے۔خلاء میں دور کہیں موجود اس شے کو خلاء میں موجود ہبل خلائی ٹیلی اسکوپ نے دریافت کیا۔32 سال قبل خلاء میں بھیجی گئی اس مشاہدہ گاہ کائنات کی مزید گہرائیوں دیکھ سکتی ہے۔علمِ فلکیات میں دُور دراز دیکھنے کا مطلب ہے ان وقوعات کو دیکھان جو ادوار کے اعتبار سے پہلے ہوئے ہوں۔ کیوں کہ روشنی اور دیگر اقسام کی شعاؤوں کو ہم تک پہنچنے کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔یہ تحقیق ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم کی جانب سے کی گئی جس رہنمائی نیل بوہر انسٹیٹیوٹ، یونیورسٹی آف کوپن ہیگن اور ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈینمارک کے آسٹرو فزسٹس نے کی۔یہ نو دریافت شدہ شے، جس کو GNz7qکا نام دیا گیا ہے، بِگ بینگ کے 75 کروڑ سال بعد وجود میں آئی۔بِگ بینگ کے عمل کو کائنات کی ابتداء کے سبب کے طور پر جانا جاتا ہے۔ Adsence Ads 300X250

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

one × five =

Back to top button