’بچے آرٹیکل 6 کی تیاری کرتے رہے، پیپر میں آرٹیکل 5 آگیا‘

پاکستان کی قومی اسمبلی میں اتوار کے روز ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے عدم اعتماد کی قرارداد کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کردیا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔اتوار کے روز جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وزیر اطلاعات فواد چوہدری جنہیں دو روز قبل وزارت قانون کا اضافی قلمدان کا دیا گیا تھا اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور آرٹیکل 5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد بیرونی سازش کا حصہ ہے۔ان کی تقریر کے بعد ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ وہ وزیر قانون و اطلاعات کی بات سے متفق ہیں اور انہوں نے رولنگ دی کہ تحریک عدم اعتماد غیر آئینی ہے اور مسترد کی جاتی ہے۔اس کے چند ہی منٹوں بعد وزیراعظم عمران خان پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر نمودار ہوئے اور کہا کہ انہوں نے صدر عارف علوی کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھیج دی ہے۔ایڈوائس بھیجنے کے چند منٹو بعد ہی صدر عارف علوی نے پاکستان کی قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا۔ وزیر مملکت برائے فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ نئے انتخابات 90 دن میں ہوں گے۔

قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیے جانے کے بعد سوشل میڈٰیا پر بھی خوشی اور غصے کا ملا جلا رجحان دیکھا جارہا ہے۔صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے اپنی ایک ٹویٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’پی ٹی آئی کے وزراء آئین کی کتاب کو روندتے ہوئے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہے ہیں۔‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’اپنی کرسی کو بچانے کی خاطر آئین پاکستان کا حلیہ بگاڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جانی چاہیے۔‘

صحافی باقر سجاد نے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا ’پوری رات بچے آرٹیکل 6 کی تیاری کرتے رہے اور پیپر میں آرٹیکل 5 آگیا۔(*5*)اپوزیشن نے 6 مہینے لگا کر کراٹے سیکھے، عمران خان نے پستول سے فائر کردیا۔‘

صحافی اسد علی طور نے وزیراعظم عمران خان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ’وزیراعظم عمران خان آخری گیند تک لڑنے کی بجائے وکٹیں اکھاڑ کر میدان سے بھاگ گئے۔‘

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’ اپوزیشن سے گزارش ہے کہ بچوں کے وزیراعظم شہباز شریف کو اسمبلی سے لے جائیں۔ وہ وہیں پر اڑے بیٹھے ہیں کہ میں نے وزیراعظم بن کر ہی جانا ہے۔ انہیں بتائیں کھیل ختم ہوا۔ اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔‘

اس معاملے پر اپوزیشن رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ جارہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک ڈپٹی سپیکر کی رولنگ اور اس کے بعد کے تمام اعلانات غیر آئینی ہیں۔

(*6*)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

thirteen − eleven =

Back to top button