بھارت میں ماریہ شراپووا اور مائیکل شوماکر کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج

بھارت میں سابق فارمولا ون چیمپیئن مائیکل شوماکر اور سابق روسی ٹینس اسٹار ماریہ شراپووا سمیت 11 افراد کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

یہ مقدمہ بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر گُڑگاؤں میں جائیداد کے تنازع پر درج کیا گیا ہے۔نئی دہلی کی رہائشی شیفالی اگروال کا کہنا ہے کہ انہوں نے شراپوا نامی اپارٹمنٹ میں فلیٹ کی بکنگ کرائی۔ اس پراجیکٹ میں ایک ٹاور ایسا بھی تھا جو سابق فارمولا ون چیمپیئن مائیکل شوماکر کے نام پر تھا۔اس اپارٹمنٹ پراجیکٹ کو 2016 میں مکمل ہونا تھا لیکن اس کا آغاز ہی نہیں ہوا۔شیفالی نے بین الاقوامی شخصیات کو اس فراڈ میں ملوث قرار دیتے ہوئے تعمیراتی کمپنی رئیل ٹیک ڈیویلپمنٹ اینڈ انفرا اسٹرکچر کے خلاف 80 لاکھ بھارتی روپے کے فراڈ کی شکایت درج کرائی ہے۔خاتون شہری کا کہنا ہے کہ انہیں اس منصوبے کے بارے میں اشتہارات کے ذریعے معلوم ہوا اور بروشر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ماریہ شراپووا اس پراجیکٹ کی تشہیر کر رہی ہیں۔خاتون کے مطابق ٹینس اسٹار نے خریداروں کے ساتھ ڈنر پارٹیز میں شرکت کی اور اس اپارٹمنٹ کے متعلق جھوٹے وعدے کیے جو شروع ہی نہیں ہوا۔دونوں سابق اسپورٹس اسٹارز کے خلاف گڑگاؤں کے بادشاہ پور پولیس اسٹیشن میں مجرمانہ سازش، وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی کی شقوں کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔درخواست گزار خاتون نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اس پراجیکٹ میں فلیٹ کی بکنگ کب کرائی تھی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مائیکل شوماکر اپنے خطرناک ایکسیڈنٹ کے بعد سے منظر عام سے غائب ہیں۔البتہ شوماکر 2011 اور 2012 میں بھارت آئے تھے جہاں انہوں نے نوئیڈا میں ہونے والی انڈین گرینڈ پرکس میں حصہ لیا تھا اور مرسیڈیز گاڑی چلائی تھی۔ Adsence Ads 300X250

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button