بیل آؤٹ پیکج، حکومت کو مشکل فیصلے کرنے ہوں گے:مفتاح اسماعیل

مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک کو موجودہ معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومت کو مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔  اتوار کو واشنگٹن میں وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عوث پاشا اور پاکستان کے سفیر مسعود خان کے ہمراہ  پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہم نے عالمی مالیاتی فنڈ سے قرض پروگرام کی مالیت اور دورانیہ بڑھانے کی درخواست کی ہے۔’آئی ایم ایف بڑی حد تک راضی ہوگیا ہے اور اس کی تفصیلات آئی ایم ایف مشن کے ساتھ طے کریں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ٹارگٹ رواں سال آئی ایم ایف پروگرام برقرار رکھنا اور اگلے سال بڑھانا ہے۔‘مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ کا کوئی چانس نہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان حکومت نے جو کمٹمنٹ کی تھی ہم ان کو پورا کرنے کے پابند ہیں۔ ’وہ کٹمنٹ عمران خان کے نہیں بلکہ حکومت  پاکستان کے ہیں۔‘مفتاح اسماعیل نے کہا اس سال ٹیکس ریٹ بڑھانے کے چانسز نہیں۔دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ کے پاکستان مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ کہ پاکستان کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے ساتھ پاکستان کی معاشی ترقی اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پالیسیوں پر مثبت اجلاس ہوئے۔بیان میں کہا گیا کہ ‘ہمارا اس بات پر اتفاق ہوا کہ بغیر فنڈ کے سبسڈیز کو واپس کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے پروگرام کے ساتویں جائزے میں تاخیر ہوئی۔‘ناتھن پورٹر کے مطابق واشنگٹن میں پاکستانی حکام کے ساتھ مثبت بات چیت کے بعد فنڈ مئی میں جائزہ مشن پاکستان بھیجے گا۔بیان کے مطابق پاکستانی حکام نے قرضے کی سہولت کو 2023 تک توسیع دینے کی بھی درخواست کی ہے۔آئی ایم ایف کا وفد مئی میں پاکستان کا دورہ کرے گا​

قبل ازیں وزارت خزانہ نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کا ایک مشن مئی میں پاکستان کا دورہ کرے گا جو  پچھلی حکومت کی جانب سے پیٹرول اور بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کے حوالے سے پاکستانی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کرے گا۔

خیال رہے اس وقت مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں پاکستانی وفد عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ  تعطل کا شکار بیلٹ آؤٹ پیکچ پر مذاکرات کے لیے واشنگٹن میں ہے۔ اتوار کو وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاکستانی وفد نے عالمی مالیاتی فنڈ کے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ جن میں ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اینٹونیٹ سیاہ، ڈائریکٹر ایم سی ڈی جیہاد ازور اور چیف مشن ناتھن پورٹر شامل تھے۔

آئی ایم ایف کے حکام کی جانب سے پاکستانی وفد کو تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

بیان کے مطابق  ملاقات میں مفتاح اسماعیل نے مالیاتی معاملات کے حوالے سے حکومت کی ترجیحات اور کوششوں کا ذکر کیا جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیموں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات سے بچنے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔

پاکستانی وفد نے ساتویں جائزے کی تکمیل کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا.آئی ایم ایف کے حکام کی جانب سے پاکستانی وفد کو تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کا ایک وفد مشن چیف ناتھن پورٹر کی قیادت میں مئی میں پاکستان کا دورہ کرے گا۔ وفد  پیٹرول اور بجلی پر پچھلی حکومت کی جانب سے دی گئی سبسڈیز پر تبادلہ خیال کرے گا۔وفد نے ورلڈ بینک کے مینیجنگ ڈائریکٹر ایکسل وون ٹراٹسنبرگ، وائس پریذیڈنٹ ہارٹ وگ سکافر سمیت دیگر حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ملاقاتوں میں جاری قرضوں کے پروگرام کے علاوہ دیگر منصوبوں پر پیشرفت کے ساتھ ساتھ مزید تعاون کے مواقع کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستانی وفد کے سربراہ مفتاح اسماعیل نے تعاون پر بینک حکام کا شکریہ ادا کیا جبکہ ایم ڈی آپریشنز کی جانب سے بھی پاکستان کو مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا۔وزیر خزانہ کی معاشی اصلاحات کے لیے ورلڈ بینک سے مدد کی اپیلمفتاح اسماعیل نے سینچر کو واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے عہدے داروں سے ملاقات میں ملک میں معاشی اصلاحات کے لیے امداد کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔خیال رہے کہ مفتاح اسماعیل نے جمعے کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا عندیہ ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ آئی ایم ایف پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

1 × 5 =

Back to top button