بینک خدمات کے بدلے آپ کے اکاؤنٹ سے کتنی رقم وصول کرتا ہے؟

بینکاری کا نظام جوں جوں جدید ہو رہا ہے صارفین کی سہولیات بھی اسی شرح سے بڑھ رہی ہیں۔ آج بینکوں میں رقم جمع کروانا اور اسے دنیا میں کہیں بھی منتقل کرنا ماضی کی نسبت بہت آسان ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں بینک آپ کو کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقوم کی فوری ادائیگی کے بغیر بھی خریداری کرنے یا خدمات حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔لیکن کیا بینک ہماری رقم محفوظ رکھنے اور مختلف سہولیات فراہم کرنے کے بدلے کچھ کٹوتیاں بھی کرتے ہیں؟ بینکوں کے بہت سارے عام صارفین کو اس کی آگاہی نہیں ہوتی مگر درحقیقت بینک تقریبا ہر سہولت کی قیمت وصول کرتے ہیں جن کا صارف کو بعض اوقات پتا نہیں چلتا۔سٹیٹ بینک آف پاکستان ملک بھر کے تمام کمرشل بینکوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے معاوضہ وصول کرے۔ اسے بینکاری کی زبان میں شیڈول آف چارجز کہتے ہیں۔ قانونی طور پر تمام بینک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ بینک کے ان چارجز کے بارے میں اکاؤنٹ ہولڈرز کو آگاہ کریں۔بینکوں کی طرف سے صارفین کی رقوم سے کٹوتیاں تقریباً تمام خدمات کے بدلے کی جاتی ہیں۔اکاؤنٹ کھولنے کی فیسکسی بھی کمرشل بینک میں اکاؤنٹ کھولنے کی کوئی فیس تو نہیں ہوتی، تاہم اکاونٹ کھولنے کے لیے کم از کم بنیادی رقم کی شرط لازمی ہوتی ہے۔اس رقم کا تعین تمام بینک کھولے جانے والے اکاونٹ کی نوعیت کے تحت کرتے ہیں۔ کچھ بینک اکاؤنٹ بنا کوئی رقم رکھے بھی کھولے جا سکتے ہیں، لیکن عموماً بینکاکاونٹ کھولنے کے لیے کم از کم تقریباً پانچ ہزار روپے جمع کروانے کا کہا جاتا ہے۔ فکس ڈیپازٹ کی صورت میں یہ شرح مختلف ہوتی ہے۔چیک بکاکاؤنٹ کھولنے کے بعد بینک کسی بھی صارف کو جو سب سے پہلی سروس فراہم کرتا ہے وہ چیک بک کی فراہمی ہوتی ہے۔مختلف کمرشل بینکوں کی ویب سائٹس پر معاوضوں کی فہرست کے مطابق کچھ بینک صارفین کو بینکاری کی جانب مائل کرنے کے لیے جو سہولیات پیش کرتے ہیں ان میںاکاونٹ کھولے جانے کے بعد پہلی چیک بک  کی مفت فراہمی بھی ہے۔معمول کی بینکاری میں چیک بک کی فیس ایک ایک صفحے کے حساب سے وصول کی جاتی ہے۔ یہ فیس 10 روپے فی صفحہ سے لے کر 20 روپے فی صفحہ ہوتی ہے اور بینک اپنے حساب سے اس شرح کے اندر ہی چیک بک کا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔اس کے علاوہ اکاونٹس قائم رکھنے کے نام پر صارفین کے اکاونٹ سے 40 سے 45 روپے سالانہ بھی کاٹے جاتے ہیں۔ڈیبٹ کارڈ اور اے ٹی ایم چارجزپاکستان میں بینکاری کی دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ استعمال ہونے والی پروڈکٹ ڈیبٹ کارڈ ہے۔ لوگ کیش لے کر چلنے کے بجائے کارڈ کے ذریعے ادائیگیاں کرنے، اے ٹی ایم سے رقوم نکلوالنے اور جن کو انٹرنیٹ بینکنگ نہیں آتی تو وہ غیر رسمی لین دین کےلیے یا رقوم کی منتقلی کے لیے ڈیبٹ کارڈ اور اے ٹیم مشین استعمال کرتے ہیں۔

ڈیبٹ کارڈ میں بینکوں نے مختلف کیٹگریز بنا رکھی ہیں۔ (فوٹو: ٹیک جوس)

ڈیبٹ کارڈ میں بینکوں نے مختلف کیٹگریز بنا رکھی ہیں جن کی بنیادی وجہ ایک دن میں کم از کم یا زیادہ سے رقم نکلوانے کی شرح کے علاوہ ان کے استعمال میں فراہم کی گئی جدید سہولیات ہیں۔ اس معاملے میں فیسوں کا تعین بھی کیٹگری کے حساب سے ہی کیا جاتا ہے۔

ڈیبٹ کارڈ کے لیے فیس سالانہ بنیادوں پر جبکہ اے ٹی ایم استعمال کرنے کی فیس ٹرانزیکشن کرنے کے ساتھ ہی کاٹ کر لی جاتی ہے۔ ڈیبٹ کارڈ کی شرح مختلف بینکوں کی جانب سے مختلف ہے۔ مثال کے طور نیشنل بینک ڈیبٹ کارڈ کی سالانہ فیس 375 روپے سے 900 روپے تک لیتا ہے، لیکن نجی بینکوں کی شرح فیس اس سے کہیں زیادہ ہے۔نجی بینک اس مد میں سالانہ ایک ہزار سے 10 ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں۔ یہ فرق ڈیبٹ کارڈ میں لگی چپ اور کمپنیوں کے ذریعے فراہم کی جانے والی سہولیات کے باعث ہوتا ہے۔اسی طرح اگر آپ متعلقہ بینک کے اے ٹی ایم کے علاوہ کوئی اے ٹی ایم استعمال کریں تو ہر ٹرانزیکشن پر 18 روپے 75 پیسے، اپنے بینک کے علاوہ کسی دوسرے بینک کی اے ٹی ایم سے بینک بیلینس معلوم کرنے پر دو روپے 50 پیسے فیس کاٹی جاتی ہے۔حال ہی میں اے ٹی ایم مشین سے کاغذ کی رسید کی وصولی پر بھی دو روپے 50 پیسے کی فیس بھی لاگو کی گئی ہے۔رقم جمع اور دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے پر چارجزکسی بھی بینک میں ڈیپازٹ سلپ کے ذریعے شہر کے اندر رقم جمع کروانے پر کوئی معاوضہ وصول نہیں کیا جاتا۔ تاہم دوسرے شہر جہاں خاص طور پر آن لائن بینکنگ کی سہولت دستیاب نہ ہو تو اس پر کم از کم چار سو روپے معاوضہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس میں اضافہ رقم کے حجم سے ہو سکتا ہے۔سٹیٹ بینک کے مطابق بلامعاوضہ انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر کی حد 25 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ 25 ہزار ماہانہ سے زائد رقم کا صفر اعشاریہ 1 یا 200 روپے جو بھی کم ہو بینک معاوضہ وصول کر سکتے ہیں۔سٹیٹ بینک کے فیصلے کے مطابق ایک ہی بینک کے مختلف اکاؤنٹ میں رقوم منتقلی بلامعاوضہ ہے، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے بلا معاوضہ رقوم منتقلی کی سہولت کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ تاہم بینکوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس پر فیس لاگو کر سکتے ہیں۔

نجی بینک ڈیبٹ کارڈ کی مد میں سالانہ ایک ہزار سے 10 ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

تمام بینکوں کی جانب سے موبائل اکاونٹ سے شناختی کارڈ پر رقوم کی منتقلی کے لیے 45 روپے سے 600 روپے تک چارجز عائد ہیں۔

رقم نکلوانے پر چارجزکسی بھی بینک سے بلا معاوضہ رقم نکلوانے کی حد بڑھا دی گئی ہے اور اب کچھ بینک پانچ لاکھ روپے اور کچھ 10 لاکھ روپے تک رقم نکلوانے پر کوئی چارجز وصول نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر حبیب بینک اپنے صارفین کو پانچ لاکھ روپے یومیہ رقم نکلوانےپر کوئی معاوضہ وصول نہیں کرتا۔ تاہم اس سے زیادہ رقم نکالنے پر 600 روپے وصول کرتا ہے۔دیگر بینکوں کو بھی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ نکلوائی گئی رقوم صفر اعشاریہ ایک یا پانچ فیصد بطور معاوضہ وصول کر سکتے ہیں۔خیال رہے کہ بینک کسی بھی ٹرانزیکشن پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے عائد ایکسائز ڈیوٹی کی بھی کٹوتی کرتے ہیں۔بینک ڈرافٹ بنوانے پر بھی 250 روپے سے 450 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔اسی طرح نان فائلر اکاونٹ ہولڈر ہونے کی صورت میں لاگو ٹیکس بھی کاٹنے کے مجاز ہیں۔بینک سٹیٹمنٹ اور ڈاک چارجزصارف اگر بینک سے اپنے اکاؤنٹ کی سٹیٹمنٹ مانگتا ہے تو مختلف بینک اس حوالے سے چارجز وصول کرتے ہیں حبیب بینک 29 روپے، عسکری بینک 30 روپے، نیشنل بینک 25 روپے اور کچھ دیگر بینک 50 روپے تک وصول کرتے ہیں۔

بینک اپنے اکاونٹ ہولڈرز کے ساتھ وقتاً فوقتاً خط و کتابت بھی کرتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

بینک اپنے اکاونٹ ہولڈرز کے ساتھ وقتاً فوقتاً خط و کتابت بھی کرتے ہیں جس کے لیے 100 روپے سے 500 روپے تک کوریئر چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔

لاکرز فیسکم و بیش تمام بینک ہی اپنے صارفین کو لاکرز کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ہر بینک کی اپنی فیس کی شرح مقرر ہے۔ یہ شرح لاکر کے سائز اور بینک کے مارکیٹ میں مقام کے لحاظ سے ہوتی ہے۔عام طور پر سب سے چھوٹے لاکر کی کم از کم فیس چار ہزار جبکہ زیادہ سے 12 ہزار ہوتی ہے۔لاکرز کے سائز میں ایکسٹرا سمال، سمال، میڈیم، لارج اور ایکسٹرا لارج شامل ہوتے ہیں۔ ہر ایک کی اپنی فیس اور اس کے ساتھ ہر ایک کی سکیورٹی فیس بھی ہوتی ہے۔متفرق چارجزمعمول کی بینکاری کے علاوہ بینک بہت سے اداروں اور افراد کے درمیان لین دین کے لیے بھی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ان خدمات کے بدلے میں بوجھ عموماً صارف پر نہیں بلکہ متعلقہ ادارے پر ہوتا ہے اور بینک کلیکشن چارجز متعلقہ ادارے وصول کرتے ہیں۔تاہم بعض صورتوں میں چالان کے ساتھ کچھ فیس بھی وصول کی جاتی ہے۔بینک بعض شیڈول چارجز بھی کچھ اکاونٹ ہولڈر کو معاف کر دیتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے کچھ شرائط ہیں جیسے بینک کو زکوۃ وصول کرنے والے ادارے یا بیوہ خواتین درخواست دے کر چارجز معاف کروا سکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button