بیوی کیمرے کے سامنے نہیں آتی اور ان کے نکاح پر صرف 10 لوگ کیوں تھے؟ جانیے شعیب اختر سے متعلق دلچسپ معلومات

(*10*)

شعیب اختر کا شمار ان چند مشہور کھلااڑیں میں ہوتا ہے جو کہ اپنی بالنگ سے شہرت کی بلندیوں کو چھو ہی چکے ہیں لیکن پاکستانی میڈیا پر بھی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو انہی سے متعلق دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔

شعیب اختر پاکستان کرکٹ ٹیم کے مشہور کھلاڑی تو ہیں ہی لیکن پاکستان اور بھارت کے میچز میں بھارتیوں کو خوب نانی یاد دلا دیتے ہیں۔

اپنے دلچسپ انداز اور دوستانہ رویے کی وجہ سے شعیب اختر سب کے دل جیت لیتے ہیں، جبکہ پاکستان کے میچز کے دوران دیگر کھلاڑی بھی شعیب اختر کی گیند بازی پر نظریں لگائے رکھتے تھے۔

اب بھی میچز کے دوران جب کھلاڑی ڈریسنگ روم میں موجود ہوتے ہیں تو شعیب اختر کے تجزیے ضرور سنتے ہیں، یعنی پچ پر ہوتے تھے تو مخالف ٹیم سمیت ہر کسی کی توجہ حاصل کر لیتے تھے اور اب جب ٹی وی اسکرین پر ہیں تو بھی سب کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔

لیکن شعیب سے متعلق ہر کوئی اس وقت حیران رہ گیا جب ان کی شادی کی خبر نے سوشل میڈیا پر ہل چل مچا دی۔ اپنے ایک انٹرویو میں شعیب اختر کا کہنا تھا کہ میری زندگی سے متعلق سارے فیصلے میری ماں نے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے والدین کا کہنا تھا کہ شادی ہماری پسند سے کرنا، اور ایک دن ایسا آئے گا کہ تیری دلہن تیرے ساتھ آ کر بیٹھ جائے گی۔

شعیب کا کہنا تھا کہ جب والدین حج پر گئے تو اہلیہ رباب اور ان کے بھائی والدہ سے ملے، وہ انہیں دیکھ کر حیران ہوئے کیونکہ لوگ ان سے مل رہے تھے، تو ساتھ ہی پوچھ بھی لیا کہ کیا آپ کوئی پیرنی ہیں؟ آپ کچھ کرتی ہیں؟ جس پر رباب اور ان کے بھائی شعیب کی والدہ کی خدمت میں لگ گئے۔

جب وہ مدینہ گئے تو وہاں رشتے کی بات شروع ہوئی اور جب واپس آئے اور حج کا کھانا ساتھ کھا رہے تھے تو والدہ نے رباب کی طرف اشارہ کر کے کہا جو شعیب کے ساتھ ہی بیٹھی تھیں کہ یہ تمہاری بیوی ہے، اس شادی کر لو۔ کُل 10 لوگوں کی موجودگی میں میرا نکاح ہوا، ہری پور سے بارات لے کر والدین اور ہم گھر آئے۔

شعیب اختر کی اہلیہ رباب زیادہ تر وقت گھر میں بچوں کے ساتھ گزارتی ہیں، جبکہ گھر میں ہونے کے ساتھ ساتھ اہلیہ کو میڈیا پر آنا پسند نہیں جب ہی وہ نجی زندگی میں خوشحال زندگی گزار رہی ہیں۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

19 − four =

Back to top button