بیٹی کی پیدائش کے بعد میری کمر اور جوڑوں میں شدید درد رہنے لگا ۔۔ پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار عورت خود کو مارنے کے بارے میں کیوں سوچنے لگی؟

بچے کی پیدائش کسی بھی عورت کی زندگی کا مشکل ترین لمحہ ہوتا ہے لیکن ایک خوبصورت احساس بھی ہوتا ہے کیونکہ
یہ ایک فطری عمل ہے لیکن ڈیلیویری کے بعد اکثر و بیشتر خواتین کو پوسٹ پارٹم ڈپریشن جیسے مسائل بھی ہو جاتے ہیں جو خطرناک حد تک صحت اور ذہنی توازن پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن یہ وہ احساس اور وہ مسئلہ ہے جس پر گھر والے بات نہیں کرتے اور عورت کا ساتھ نہیں دیتے اس کو اکیلے ہی اتنے مسائل کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ایسی ہی ڈاکٹر پریا ہیں جو خود ایک ڈاکٹر ہیں اور روزانہ ماؤں کی ڈیلیوری کرواتی ہیں، انہیں صحت سے متعلق بتاتی ہیں، سمجھاتی ہیں مگر جب ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تو وہ خود اس قدر ڈپریشن میں چلی گئیں، ساتھ ہی کمر درد کے مسئلے سے دوچار ہوئیں کہ خود کو مارنے کے بارے میں سوچنے لگیں۔
پریا اپنے انسٹاگرام پر اکثر حاملہ ماؤں اور نئی بننے والی ماؤں کو احتیاط اور مختلف مشورے دیتی رہتی ہیں۔ ان کی زندگی میں بھی ایک مشکل ترین وقت آیا جب وہ اکیلی پڑ گئیں مگر ان کی دوستوں نے ان کا ساتھ دیا۔

پریا کہتی ہیں:

میری بیٹی کی پیدائش سے قبل ہی مجھے اس کی فکر ہونے لگی کہ وہ پتہ نہیں صحت مند ہوگی بھی یا نہیں، میں اس کو خؤش رکھ بھی سکوں گی یا نہیں اس کے بعد میرا کیا بنے گا؟ میری صحت کیسی رہے گی؟ مجھے کون سمجھائے گا؟ کہیں مجھے پوسٹ مارٹم ڈپریشن نہ ہو جائے۔ پتہ نہیں میرے گھر والے میرے اس رویے کو سمجھ بھی پائیں گے یا نہیں؟ پتہ نہیں میرے شوہر مجھے سکون دے سکیں گے بھی یا نہیں؟ یا میں خؤد ہی راتوں کو اکیلے بیٹھ بیٹھ کر گزاروں گی؟

تکلیفوں سے متعلق بتاتے ہوئے پریا کہتی ہیں:

بیٹی کی پیدائش کیونکہ آپریشن سے ہوئی تو مجھے 3 دن تک خود کو سنبھالنے میں وقت لگا اور اس کے بعد میری بچی دودھ نہیں پیتی تھی جو میرے لیے ایک اور بڑا مسئلہ بنا لیکن جب یہ سب کچھ ختم ہوگیا تو اس کے بعد میں ایک لمبی تکلیف میں جا گھری۔ میں نے خود کو جتنا ڈپریشن سے دور رکھنا چاہا میں اتنی ہی اس میں گھرتی چلی گئی اور ایک وقت آیا جب میں خود کو مارنے کے بارے میں سوچنے لگی۔ لیکن میری دوستوں نے میرا بھرپور ساتھ دیا اور پھر 5 ماہ بعد مجھے زندگی کی طرف دوبارہ خوشیاں نظر آنے لگیں، آخر میں ایک ماں بھی تھی اور ایک ڈاکٹر بھی۔

خواتین کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ڈاکٹر پریا کہتی ہیں:

ہمارے معاشرے میں ڈپریشن کا ایک لفط تو عام ہے لیکن وہ ایک نئی ماں بننے والی عورت کے لیے نہیں کیونکہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ مائیں کیا کیا برداشت کلرتی ہیں بے شک یہ خدا کی طرف سے ایک بڑا تحفہ ہے کہ وہ ماں کو سُپر پاور جیسی طاقت دیتا ہے لیکن یہ مزاج کی تبدیلی بھی قدرتی اور فطری ہے جو ہر عورت برداشت کرتی ہے، کاش اسے بھی کوئی سمجھے۔ اور ایسے مقام پر جب کسی بھی عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ اور سمجھاوے کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے اس وقت وہ بھی پریشانی کو نہ سمجھے تو عورت کیسے زندگی میں آگے بڑھے گی؟

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

sixteen + twelve =

Back to top button