تاریخ کا سب سے شدید زلزلہ

چاہے 2005 کا پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا زلزلہ ہو یا 2010 کا ہیٹی زلزلہ ہو، اس طرح کے کئی زلزلوں نے گزشتہ سالوں میں زمین کو جھنجھوڑا ہے۔

لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ تمام زلزلے 3800 سال قبل شمالی چلی میں آنے والے شدید زلزے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔ساؤتھیمپٹن یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ اس زلزلے کی شدت 9.5 کے قریب تھی، جو آج کے پیمانے کے مطابق تازیخ کا سب سے شدید زلزلہ ہے، اور یہ زلزلہ بہت بڑے سونامی کا سبب بنا جو 5000 میل دور نیوزی لینڈ تک پہنچا۔زلزلے تب آتے ہیں جب دو ٹیکٹانک پلیٹیں آپس میں رگڑ کھاتی ہیں اور علیحدہ(جو کو ریپچر کا عمل بھی کہا جاتا ہے) ہوجاتی ہیں، جتنی زیادہ دیر تک علیحدہ رہتی ہیں اتنے بڑے زلزلے آتے ہیں۔اب سے پہلے سب سے بڑی نوعیت کا یہ عمل 1960 میں جنوبی چلی میں ہوا تھا۔پروفیسر جیمز گوف، جو تحقیق کے شریک مصنف ہیں، کا کہنا تھا کہ ایسا خیال کیا جاتا تھا کہ شمالی حصے میں اس سے بڑا وقوع نہیں ہوا کیوں کہ اتنا بڑا ریپچر نہیں ہو سکتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اب ہمیں ریپچر کے ایسے شواہد ملے ہیں جو ایک ہزار کلو میٹر طویل ہیں۔ Adsence Ads 300X250

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

one × two =

Back to top button