تیزی سے پھیلتا بلیک ہول دریافت

ماہرینِ فلکیات نے کائنات کے ابتداء میں ایک تیزی سے بڑھتے بلیک ہول کی شناخت کی ہے جس کو نوجوان ستارہ ساز کہکشاؤں اور پہلے سُپر میسو بلیک ہولز کے درمیان اہم مفقود کڑی سمجھا جاتا ہے۔

ماہرینِ فلکیات نے اس دریافت کے لیے ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کا ڈیٹا استعمال کیا۔اب تک بلا، جس کا نام GNz7q ہے، آسمان کے ایسے حصے میں چُھپی ہوئی تھی جس کا اب تک سب سے زیادہ مطالعہ کیا جا چکا ہے، جس کو GOODS-Northفیلڈ کا ہے۔سروے کے لیے ہبل میں نصب ایڈوانسڈ کیمرا سے آنے والے آرکائیول ہبل ڈیٹا کی مدد سے ٹیم نے GNz7q کے متعلق اس بات کا تعین کیا کہ یہ بِگ بینگ کے 75 کروڑ سال بعد وجود میں آیا۔ٹیم کو یہ شواہد ملے کے GNz7q ایک نوتشکیل بلیک ہول ہے۔ ہبل کو الٹرا وائلٹ اور انفرا ریڈ روشنی کا ایک ٹھوس ذریعہ ملا۔ان روشنیوں کا اخراج کہکشاؤں سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ان مٹیریلز سے متوقع ہے جو بلیک ہول میں گِرتے ہیں۔تیزی سے بڑے بلیک ہولز کی غبار آلود، ابتدائی ستارہ ساز کہکشاؤں میں موجودگی کی پیشگوئی نطریات اور کمپیوٹر سِمیولیشنز میں تو کی گئی تھی لیکن اس کا مشاہدہ اب تک نہیں ہوا تھا۔ Double Click 300X250

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

nineteen + 9 =

Back to top button