جاسوسی میں ملوث فیس بک، انسٹا اکاؤنٹس بند

فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا انکارپوریشن نے نصف درجن سے زائد نجی جاسوسی  کمپنیوں کی سرگرمیوں کو بے نقاب کیا ہے جو مجموعی طور پر لگ بھگ 50 ہزار افراد کو نشانہ بناتے ہوئے ہیکنگ اور دیگر سائبر جرائم میں ملوث ہیں۔

رائٹرز کی کے مطابق جاسوسی فرمز کے ساتھ میٹا کا یہ تنازع امریکی ٹیک کمپنیوں، امریکی قانون سازوں اور صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے ڈیجیٹل جاسوسی کی خدمات، خاص طور پر اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی این ایس او گروپ، کے بارے میں انکشافات کے بعد سامنے آیا ہے۔ خیال رہے کہ این ایس او گروپ کو رواں ماہ کے آغاز میں ان انکشافات کے بعدبلیک لسٹ کردیا گیا تھا کہ فیس بک کی ٹیکنالوجی کو کس طرح سول سوسائٹی کے خلاف استعمالکیا جارہا ہے۔ میٹا پہلے ہی امریکی عدالت میں این ایس او کے خلاف مقدمہ کر رہی ہے۔ میٹا کی سیکیورٹی پالیسی کے سربراہ، ناتھینیل گلیچر نے رائٹرز کو بتایا کہ گزشتہ روز کیے گئے کریک ڈاؤن کا مقصد یہ اشارہ دینا تھا کہ ’سرویلنس- فار- ہائیر انڈسٹری ایک کمپنی سے کہیں زیادہ وسیع ہے‘۔ کمپنی کے مطابق انہوں نے لگ بھگ ڈیڑھ ہزارسے زائد فیک اکاؤںٹس کو ہٹادیا ہے جنہیں فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر 7 آرگنائزیشنزکی جانب سے چلایا جارہا تھا۔ میٹا کے مطابق ان جاسوسی کمپنیوں نے 100سے زائد ممالک میں موجود لوگوں کو نشانہ بنایا۔کمپنی نے اس بارے میں تفصیلی وضاحت فراہم نہیں کی کہ اس نے جاسوسی کرنےوالی فرمز کی شناخت کیسے کی، لیکن یہ کمپنی دنیا کے سب سے بڑے سماجی اور مواصلاتینیٹ ورکس کو چلاتی ہے اور باقاعدگی سے اپنے پلیٹ فارمز سے بدنیتی پر مبنی اداکاروںکو تلاش کرنے اور اسے ہٹانے کی اپنی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔جن جاسوسی کمپنیوں کے اکاؤنٹس کو ہٹایا گیاان میں ان میں اسرائیل کی بلیک کیوب بھی شامل ہے جو کہ ہالیووڈ ریپسٹ ہاروی وائنسٹئن کی جانب سے اپنے جاسوسوں کو تعینات کرنے کی وجہ سے بدنامہوئی تھا۔ میٹا نے کہا کہ انٹیلی جنس فرم اپنے اہداف کو آن لائن چیٹ کرنے اور انکے ای میلز کو جمع کرنے کے لیے فینٹم پرسنز کو تعینات کر رہی ہے۔ دیگر کمپنیوں میں بھارتی سائبر فرم بیل ٹروکس بھی شامل ہے جسے گزشتہ برسرائٹرز اور انٹرنیٹ واچ ڈاف سٹیزن لیب نے بے نقاب کیا تھا۔اسرائیلی کمپنی بلیو ہاکسی آئی اور سائٹروکس نامی یورپی کمپنی پر بھی میٹا نے ہیکنگ کا الزام عائد کیا۔ میٹا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ سائبر گروپس اکثر یہدعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صرف جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کو نشانہ بناتے ہیں۔‘بیان کے مطابق ’اصل میں صحافیوں، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والےکارکنوں، اپوزیشن اراکین کے اہلخانہ اور حکومت کے ناقد ین کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ہم نے ان پر اپنے پلیٹ فارم پر پابندی لگا دی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button