جرمنی میں پہیوں کے ساڑھے پانچ ہزار سال پرانے نشانات کی دریافت

شمالی جرمنی کے فلِنٹ بَیک نامی ایک چھوٹے سے علاقے میں دنیا کا قدیم ترین وہیل ٹریک دریافت کیا گیا ہے۔ ایک نئی سائنسی اشاعت سے پتا چلا ہے کہ پہیوں کے یہ نشانات تین ہزار چار سوسال  قبل از مسیح  کے دور کے ہیں۔

بعض اوقات آثار قدیمہ کے ماہرین کو کسی دریافت کی تمام تر تفصیلات اور ان کی تاریخی گہرائیوں کا سائنسی طور پر جائزہ لینے اور تجزیہ کرنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ لیکن یکسوئی اور استقامت کے ساتھ کیے جانے والے اس کام کے نتائج بہت گراں قدر ہوتے ہیں۔ شمالی جرمن صوبے شلیسوگ ہولشٹائن کے ایک چھوٹے سے بلدیاتی علاقے فلِنٹ بَیک میں محققین نے 1976ء اور 1996ء کے درمیانی عرصے میں کھدائی کے دوران پہیوں کی بہت قدیم  پٹڑیاں یا رستے دریافت کے تھے۔ یہ دریافت غیر معمولی حد تک سنسنی کا باعث بنی تھی۔ اب طویل تجزیاتی عمل کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس مقام پر دریافت ہونے والی پہیوں کی پٹڑیوں کے آثار دنیا میں اپنی نوعیت کے قدیم ترین نشانات ہیں۔‘‘

زمانہ تاریخ سے بھی پہلے کے دور کے علوم کی ایک جرمن مؤرخہ پروفیسر ڈاکٹر ڈورس مشکا نے اس کی تصدیق اپنی ایک رپورٹ میں کی ہے۔ آثار قدیمہ کی اس کھدائی اور اس پر ہونے والی تحقیق کے نتائج ڈاکٹر مشکا نے شمالی جرمن شہر کیل کی کرسٹیان آلبریشت یونیورسٹی کے ساتھ مل کر ایک کتاب کی شکل میں شائع کیے ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے پہیوں اور ٹھیلوں کی طرح کی سادہ گاڑیوں کے استعمال کے اب تک دریافت شدہ قدیم ترین شواہد کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

جھیل کونسٹانس سے ڈھائی ہزار سال قبل از مسیح کی کشتی دریافت

محققین کے لیے یہ جان لینا ہی کافی نہیں تھا کہ شمالی جرمنی میں دریافت ہونے والے یہ ‘وہیل ٹریک‘ دنیا میں اپنی نوعیت کے قدیم ترین آثار ہیں بلکہ انہیں یہ معلوم کرنے میں بھی دلچسپی تھی کہ یہ آثار کتنے پرانے ہیں۔ اس کے لیے محققین نے ایک خاص شماریاتی طریقہ استعمال کیا اور اس کی مدد سے ماہرین یہ دکھا سکے کہ یہ وہیل ٹریک کس سال میں بنائے گئے تھے۔ اس ٹیم میں شامل ایک ماہر یوہانس میولر بتاتے ہیں، ”ان تاریخوں کو نئی دستاویز میں درج کیا گیا ہے۔‘‘ ان کے مطابق ‘فلِنٹ بَیک ویگن وہیل ٹریک‘ کی تاریخ تقریباً تین ہزار چار سو قبل از مسیح کے دور کی ہے اور یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پہیوں اور گاڑیوں کے استعمال کے قدیم ترین شواہد ہیں۔

فلِنٹ بَیک کہاں ہے؟

فلِنٹ بَیک کیل شہر سے تقریباً 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پتھر کے زمانے اور پھر کانسی کے دور کی درجنوں قبروں کی یادگاریں ہلالی شکل والے اس چھوٹے سے بلدیاتی علاقے کے بالکل قریب موجود ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں 1976ء اور 1996ء کے درمیانی عرصے میں کھدائی کی گئی تھی۔ یہاں کئی قبروں کی باقیات ہیں اور یہیں پہیوں کی پٹڑیاں دریافت کی گئیں۔ یہ جگہ یورپ بھر میں سب سے بڑے اور بہت بھاری پتھروں سے تعمیر شدہ قبرستانوں میں سے ایک میں واقع ہے۔

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کی مدد سے محققین یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے کہ یہ علاقہ تقریباً 5800 سال پہلے اولین تدفین کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں بہت لمبی قبریں بنانے کا رواج تھا اور انہیں مستطیل یا trapezoidal یعنی پہاڑی کی شکل میں تدفین کے مقامات کہا جاتا تھا۔ ان میں بعد ازاں مسلسل توسیع ہوتی رہی۔ اس ابتدائی مرحلے کے دوران انسانوں کی تدفین کے لیے پتھر کے چھوٹے چھوٹے چیمبرز والے ٹیلے بنائے جاتے تھے۔

تین ہزار تین سو سال قبل از مسیح کے زمانے تک فن تعمیرات میں کافی تبدیلی آ چکی تھی۔ تب مرنے والوں کو گزرگاہوں میں بنی قبروں میں دفن کیا جاتا تھا، پتھر کے بڑے بڑے کمرے جن کے داخلی دروازے بھی پتھر کے بنے ہوئے ہوتے تھے، آنے والی کئی صدیوں تک اجتماعی تدفین کے مقامات کے طور پر کام آتے رہے۔ اس ریسرچ کے دوران ماہرین نے وہاں بنائی گئی قبروں کی تعمیر کے دور کا تعین آرگینک مٹیریل کے سائنسی تجزیوں سے کیا۔

کیا پہیہ بھی وہیں ایجاد ہوا تھا؟

جرمن مؤرخہ پروفیسر ڈاکٹر ڈورس مشکا کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس سوال کا جواب نہیں ہیں کہ پہیہ پہلی مرتبہ کہاں ایجاد ہوا تھا۔ اس بات کو تاہم رد نہیں کیا جا سکتا کہ شمالی جرمنی کے اسی علاقے میں بہت قدیم اور سادہ سی گاڑیوں کے پرانے رستے بھی دریافت ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مشکا کہتی ہیں، ”اس امر کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہاں گزشتہ کئی ہزار برسوں کے دوران چیزوں کے قدرتی طور پر محفوظ رہنے کے لیے حالات کس حد تک سازگار تھے۔‘‘

ڈاکٹر مشکا نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا، ”ایسے آثار بھی ملتے  ہیں جو پرانے ہو سکتے ہیں اور یہ نمی والے علاقوں کی اس دور میں بسائی گئی بستیوں میں وہیل ٹریکس کا پتا دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سوئٹزرلینڈ میں ایسے آثار موجود ہیں، جو اور بھی زیادہ قدیم  ہوسکتے ہے۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ ایسے کئی علاقے ہیں جنہیں قدیم انسانی تہذیبوں میں پہیے کی ایجاد کا ممکنہ مقام سمجھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بحیرہ اسود یا میسوپوٹیمیا کے شمال میں واقع میدانی علاقے اور جنوب مشرقی اناطولیہ میں دریائے فرات اور دجلہ کے آس پاس کا علاقہ بھی اس زمرے میں آ سکتا ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

eleven − five =

Back to top button