جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ لاکھوں میل دور، منزل کے قریب

زمین سے پرواز کرنے والی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ 30 دن بعد پیر کو لاکھ میل دور اپنے پارکنگ آربٹ میں پہنچ جائے گی۔

وہ جگہ ٹیلی اسکوپ کے لیے کائنات کے ابتدائی ستاروں کو انفرا ریڈ لائٹ سے تلاش کرنے کے لیے بہترین مقام ہے۔لیکن وہاں تک پہنچنا، اس کے سن شیڈز، آئینے اور دیگر آلات کو کامیابی کے ساتھ نصب کرنا، آدھا کام تھا۔سائنس دانوں اور انجینیئروں کو اب اس 10 ڈالرز مالیت کی ٹیلی اسکوپ کو فعال ٹیلی اسکوپ میں ڈھالنا ہے، بالخصوص 18 بنیادی آئینے کے ٹکڑوں کو یکجا کرنا ہے تاکہ وہ 21.3 فٹ کے ایک آئینے کے طورپر کام کر سکیں۔اس ہفتے کے شروع میں انجینیئروں نے کئی دنوں آئینے کے ہر ٹکڑے اور 2.4 فٹ چوڑے ثانوی آئینے کو کو اٹھایا تھا۔اب مکمل طور پر تنصیب کردی جانے والی ٹیلی اسکوپ کے 18 ٹکڑے بمشکل ایک ملی میٹر کے فاصلے سے لگائے گئے ہیں۔صاف اور واضح فوکس کے لیے اس ترتیب کو انتہائی باریکی سے کرنا ہوگا۔ناسا کے سائنس دان کا کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کا بنیادی آئینہ ٹکڑوں میں ہے اور ان ٹکڑوں کو روشنی کی ویو لینتھ کے فریکشن میں الائین ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم مائیکرونز کی بات نہیں کر رہے، ہم ویو لینتھ کی فریکشن کی بات کر رہے ہیں۔ جو ویب کے حوالے سے پیچیدہ ہے۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button