حکومت کے لیے مسئلہ اب سیاست نہیں! ماریہ میمن کا کالم

عمران خان کی حکومت اچھی تھی یا بہت بری، یہ بات اب پیچھے رہ چکی ہے۔ اسی طرح عمران خان حکومت سازش کا شکار ہوئی یا مداخلت کا، اس بحث سے بھی صرف نظر کیا جا سکتا ہے۔ عدم اعتماد ایک جمہوری اور آئینی قدم تھا یا نہیں، یہ نکتہ بھی اب تاریخ کے طالب علموں کے لیے ہے۔آج کے دن کی حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ن لیگ کی سربراہی میں ایک حکومت ہے اور اس حکومت کے زیر سایہ عوام پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے اس حکومت کے لیے مسئلہ عمران خان نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ عوام کو مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے کیسے نکالا جائے؟سوال یہ بھی ہے عوام کے حقیقی مسائل کے بجائے حکومت کی ترجیحات کیا ہیں؟سب سے پہلے تو حکومت کے اتحادی اور پارٹی سطح پر معاملات ہی طے نہیں ہو رہے۔ ایک طرف ایم کیو ایم رنجیدہ اور سیخ پا ہے تو دوسری طرف ’باپ‘ اور آزاد ارکان وعدے پورے نہ ہونے پر شکوہ کناں ہیں۔پییلز پارٹی کے لیے راوی چین ہی چین لکھتا ہے اور وہ سیاسی سرگرمیوں میں بھی خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ آخری بار کب بلاول بھٹو اور آصف زرداری عوام میں نظر آئے کسی کو یاد نہیں۔مولانا فضل الرحمان بھی سہولت سے گوشہ نشین ہیں اور تیرہ پارٹیوں کا اتحاد اب صرف کھانوں پر کبھی نظر آ جاتا ہے۔ اس اتحاد کے بلند و بانگ دعوں کے لیے  واحد انحصار ن لیگ کی طرف ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ ن لیگ کیوں اپنے کچھ خود ساختہ اور کچھ عوامی رائے کے برعکس گورننس کی شہرت اور بہتر کارکردگی میں ناکام ثابت ہو رہی ہے؟اس کی بنیادی وجہ ن لیگ کے لیے میدان کی تنگی ہے۔ پہلے ہمیشہ ن لیگ کو کھلا میدان ملا اور وہ کھلے میدان میں کھل کر کھیلے۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ میدان بھی تنگ ہے اور مسائل بھی گھمبیر، مگر جو ٹیم میدان میں اتاری گئی ہے ان کا آپس میں بھی اتحاد پارہ پارہ ہے۔معیشت کے فرنٹ پر ٹیم اور ہے اور پیچھے والی ٹیم اور۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار واپسی کے لیے پر تولتے تولتے اب باقاعدہ پرواز کے لیے تیار ہیں۔ اگر وزارت خزانہ میں پالیسی تبدیل ہوئی تو یہ اس حکومت کے مختصر ترین دور میں ایک بڑا یو ٹرین ہو گا۔ن لیگ کے اندر سے کئی وزرا نے موجودہ وزیر خزانہ کی حمایت میں بیان بھی دیے ہیں۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ وہ سابق وزیر خزانہ کو بالواسطہ میسج دے رہے ہیں؟ اور ن لیگ کے سربراہ نواز شریف اس میں کہاں کھڑے ہیں یہ معمہ بھی گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مہنگائی اور گورننس کے میدان میں حکومت کا پلان آخر ہے کیا؟ابھی تک تو کوئی ریلیف دور دور تک نظر نہیں آ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے حکومت ایک لیباریٹری ہے جس میں کچھ نو آموز ایک کے بعد ایک تجربہ کر رہے ہیں۔ ان کو کوئی فکر نہیں کہ ان کے تجربوں سے کروڑوں عوام غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اس حکومت کے زیر سایہ عوام پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے لیے یہ سب ایک کھیل ہے جس میں آئی ایم ایف ہے، سٹیٹ بنک ہے، سٹاک ایکسچینج ہے، بجلی کے کارخانے ہیں، بین الاقومی دورے ہیں، اگر نہیں ہیں تو عوام نہیں ہیں۔

پنجاب میں ن لیگ کے ٹکٹ پر ضمنی انتخاب لڑنے والے البتہ عوام کے ردعمل کو محسوس کر رہے ہیں۔ ذرائع اور مختلف تجزیوں کے مطابق بیس حلقوں میں مقابلہ ففٹی ففٹی کے ارد گرد ہے اور اس کا براہ راست تعلق لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی ہے۔جن حلقوں میں لوڈ شیڈنگ آٹھ گھنٹوں سے زیادہ ہے وہاں ن لیگ کی پوزیشن کمزور تر ہے۔ یقیناً وفاق اور لاہور میں ن لیگ کے بزرج مہروں تک بھی یہ رپورٹیں پہنچ رہیں ہو گی۔ ان کا رد عمل البتہ زمہ داری کو اب بھی سیاسی مخالفوں پر منتقل کرنا ہے۔عوامی مسائل میں اگر کوئی رہی سہی کسر تھی بھی تو وہ سیاسی محاذ آرائی نے پوری کر دی ہے۔ عمران خان کا لانگ مارچ اور دھرنے اپنا اثر دکھانے میں اس طرح کامیاب نہیں ہو سکے جتنا ان کا بیانیہ بن چکا تھا۔اب روایتی سیاسی جلسے ہیں اور مخالفین پر لفظی گولا باری ہے۔ یہ لفظی گولا باری بطور اپوزیشن ن لیگ بھی کر رہی تھی اور اب پی ٹی آئی کی طرف سے بھی متوقع رد عمل ہے۔غیر متوقع البتہ حکومت کی طرف سے کوشش ہے کہ مہنگائی اور گورننس سے توجہ ہٹانے کے لیے عمران خان اور سیاست کو ہی موضوع گفتگو رکھا جائے۔عمران خان کی ناکامی یا کامیابی اب قصہ ماضی ہے۔ عوام اس کا فیصلہ انتخاب میں کر دیں گے۔ آج کے دن کی حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ن لیگ کی سربراہی میں ایک حکومت ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ اس حکومت کے زیر سایہ عوام پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ 

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

four + 10 =

Back to top button