خنزیر کے گردوں کی انسانوں میں پیوند کاری کا پہلا کامیاب تجربہ

خنزیر کے گردے کی انسانی جسم میں پیوند کاری کا کامیاب تجربہ طب کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ نیو یارک یونیورسٹی کے ‘لنگون ہیلتھ سینٹر‘ سے وابستہ محققین کی ایک ٹیم ”زینو ٹرانسپلانٹیشن‘‘ کے اس تجربے میں کامیاب ہوئی ہے۔ انسانوں میں گردے کی پیوند کاری کے لیے خنزیر کے گردوں کے استعمال کا یہ پہلا تجربہ تھا۔

اہم ترین مشاہدہ

اس تجربے کی اہم ترین بات یہ ہے کہ اس کے دوران کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس تجربے کو کامیاب بنانے کے لیے ریسرچرز نے خنزیر کی جینز میں یوں تبدیلی کی کہ اس کے ٹشوز میں کوئی مولیکیول باقی نہ رہے جس کے سبب انسانی اعضاء اسے مسترد کر دیں۔

انسانی اعضاء والے جانوروں کی تیاری کی اجازت دے دی گئی

وصول کنندہ کا برین ڈیڈ تھا

اس تجربے کے لیے ریسرچرز نے ایک ایسی خاتون کا انتخاب کیا جس کا دماغ مردہ تھا۔ محققین نے اس خاتون کے گھر والوں سے پہلے اس تجربے کی اجازت لی پھر ان کی رضامندی سے یہ تجربہ کیا گیا۔ اس خاتون کے گردے کیونکہ خراب تھے، اس لیے اس کے گردوں کی خنزیر کے گردوں کے ساتھ پیوند کاری کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم اس پیوندکاری کا طریقہ کار مختلف تھا۔ سرجنز نے جانور کے  گردے کو مکمل طور پر اس خاتون کے جسم میں پیوند نہیں کیا بلکہ اسے صرف اس خاتون کی خون کی نالیوں سے جوڑ دیا۔ اس طرح اس تجربے کے دوران یہ عضو جسم سے باہر تھا۔ اس طرح محققین گردے کی کارکردگی کا قریب سے مشاہدہ بھی کر سکے۔ تین روز تک ریسرچرز نے پیوند کاری کے عمل سے گزرنے والے گردے کا مشاہدہ کیا اور پھر انہیں اس نوعیت کے ٹرانسپلانٹ کی کامیابی کا یقین ہوا اور انہیں لگا کہ یہ امید افزا ہو سکتا ہے۔   

انسانی عضوِ تناسل کی پہلی مرتبہ پیوندکاری

گردے اور جگر کا ٹرانسپلانٹ عام سمجھا جاتا ہے

خنزیر کا گردہ کار آمد

گردے کی پیوند کاری کے اس انوکھے تجربے کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی جسم کی خون کی نالیوں سے جُڑا ہوا خنزیر کا گردہ بالکل انسانی گردے کی طرح کام انجام دیتا ہے۔ خنزیر کے گردے نے بھی انسانی گردوں کی طرح جسم سے فُضلے کو فلٹر کیا، پیشاب بنایا، بالکل اتنی ہی مقدار میں جتنا کہ ایک مریض انسانی گردے کی پیوند کاری کے بعد پیدا کرتا ہے۔

عطیہ کرنے والے اعضاء کی کمی

انسانوں میں عام طور سے جگر کے ساتھ ساتھ گردوں کی پیوندکاری کی جاتی ہے۔ محض ایک سال یعنی 2020ء میں جرمنی میں 1400 گردوں کی پیوند کاری کی گئی جبکہ اس کی ضرورت اس سے کئی گنا زیادہ انسانوں کو تھی۔ اس وقت جرمنی میں سات ہزار سے زائد انسانوں کی جان بچانے کے لیے انہیں گردوں کی ضرورت ہے اور اس تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ انوکھی پیوند کاری: ناممکن ممکن بن گیا

 

جرمنی سمیت بہت سے ممالک میں اعضاء کےعطیات کی شدید کمی پائی جاتی ہے

ایسے مریض جنہیں گردے کا عطیہ نہیں ملتا انہیں ڈائلیسس کی مشین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جرمنی میں 50 ہزار سے زائد مریضوں کی زندگیوں کا سہارا  ڈائلیسس کی مشینیں ہیں۔

خنزیر کے گردوں کی پیوند کاری کا کامیاب تجربہ یقیناً خوش آئند ہے مگر اس تصویر کا دوسرا رُخ بھی ہے وہ یہ کہ جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم عناصر اس ”زینو ٹرانسپلانٹیشن‘‘ پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔

گودروں ہائزے / ک م / ع ا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button