روشنی کی آلودگی کیا ہے اور ہمارے ليے کتنی نقصان دہ ہے؟

گزشتہ برس جنوری میں ایک تکنیکی خرابی کے باعث پاکستان کا ایک بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا تھا، جسے درست کرنے میں تقریباً 20 گھنٹے لگ گئے تھے۔ اس واقعے کا سوشل میڈیا پر بہت چرچا رہا کیونکہ کراچی اور لاہور  جیسے گنجان آباد علاقوں کے رہائشی روشنیوں کی بہتات کے باعث حقیقی آسمان دیکھ ہی نہیں پاتے۔ بہت سے لوگوں نے پہلی بار جانا کہ لائٹ پولوشن بھی آلودگی کی ایک قسم ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف ہم سے رات کا دلکش آسمان چھن گيا ہے بلکہ یہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بھی بن رہی ہے۔

لائٹ پولوشن یا روشنی کی آلودگی کیا ہے؟

رایان خان لائٹ پولوشن کی حوالے سے آگاہی پھیلانے والی تنظیم ‘انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل یونین آف ڈارک سکائیز‘ کے پاکستان میں سفیر اور ‘کوسمک ٹرائب سوسائٹی‘ کے بانی ہیں۔ رایان نے ڈی ڈبليو اردو کو بتایا کہ ہمارے ارد گرد موجود تمام مصنوعی روشنیاں لائٹ پولوشن کا سبب بن رہی ہیں۔ ان میں گھروں، تفریحی مقامات، شاپنگ مالز، ہوٹلز اور اسٹریٹ لائٹس وغیرہ سب شامل ہیں۔ اسمارٹ فونز سے خارج ہونے والی روشنیاں بھی لائٹ پولوشن میں حصہ دار ہیں جن سے سب سے زیادہ انسانی صحت متاثر ہوتی ہے۔

کہکشاں میں پراسرار گردشی شے

لاہور، دنیا کا سب سے آلودہ شہر

مرطوب زمین، آلودہ پانی کو شفاف بنانے کا آسان طریقہ

رایان خان کے مطابق فضائی، آبی اور دیگر آلودگیوں کی نسبت روشنی کی آلودگی  کا آغاز ہوئے ابھی اتنا عرصہ نہیں ہوا۔ 1879 میں تھامس ایڈیسن نے بلب ایجاد  کیا، تو اس سے پہلے مصنوعی روشنیوں کا واحد ذریعہ آگ تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری زندگیوں اور ایکو سسٹم پر لائٹ پولوشن کے اثرات ابھی تک اتنے گہرے نہیں ہیں بلکہ پاکستان میں تو بہت سے لوگ اس سے آشنا بھی نہیں۔

رایان بتاتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے انقلاب اور جدید طرز زندگی کے باعث امریکا اور یورپ کے 99 فیصد علاقے روشنی کی شدید آلودگی کا شکار ہیں۔ جبکہ عالمی سطح پر 83 فیصد آبادی اس آلودگی کی زد ميں ہے۔ یہاں روشنی کی زیادتی ذہنی صحت کے ساتھ ایکو سسٹم پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

روشنی کی آلودگی  کس طرح موسمياتی تبديليوں کا سبب بن رہی ہے؟

ماہرین کے مطابق لائٹ پولوشن میں دو فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک میں شہری آبادی بڑھنے کے باعث اگلے چند برسوں میں  اس تناسب میں تیزی سے اضافے کا امکان ہے۔

رایان خان نے بتایا کہ یہ روشنیاں جو آج کل کے طرز زندگی کا حصہ ہیں، انہیں جلانے کے ليے توانائی درکار ہوتی ہے، جو زیادہ تر فوسل فیول سے حاصل کی جا رہی ہے۔ فوسل فیولز کا بڑھتا ہوا استعمال دنیا بھر میں گلوبل وارمنگ، ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کی شرح تیز تر کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

 رایان مزید بتاتے ہیں کہ روشنی کی آلودگی جنگلی حیات کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔اس سے پودوں اور جانوروں کی فزیالوجی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے  ہیں۔ دنیا بھر میں کئی جانور اور پرندے سال میں دو مرتبہ اپنے طے شدہ راستوں سے ہجرت کرتے ہیں۔ مگر ان راستوں پر بڑھتی ہوئی مصنوعی روشنیوں سے یہ بھٹک کر مر جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صرف امریکا میں ہر برس 100 ملین سے 1 بلین ہجرتی پرندے مصنوعی روشنیوں کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں۔

بہت سے جانور جو رات میں شکار کرتے ہیں وہ جنگلات کی کٹائی اور روشنیوں کی زیادتی کے باعث شکار کرنے سے قاصر ہیں۔ جنگل میں شکار اور شکاری خوراک کے ليے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں جس سے فوڈ چین بنتی ہے۔ لائٹ پولوشن سے یہ فوڈ چین شدید متاثر ہو رہی ہے اور بہت سے جانوروں کے ناپید  ہو جانے  کا  اندیشہ ہے۔

لائٹ پولوشن کے انسانی صحت پر کیا اثرات ہیں؟

رایان خان نے بتایا کہ انسانی جسم کا نظام قدرت کے مخصوص چکر پر چلتا ہے جسے ‘سر کیڈین ردھم‘ کہا جاتا ہے اور جس میں سونے اور جاگنے کے اوقات بھی شامل ہوتے ہیں۔ سوتے وقت ہمارا دماغ ایک ہارمون میلاٹونن خارج کرتا ہے جس کے اخراج کا تعلق اندھیرے سے ہوتا ہے۔

اگر سوتے وقت دماغ پر روشنی پڑے جیسے سمارٹ فون ساتھ رکھ کر سونا تو میلاٹونن کا اخراج متاثر ہوگا۔ اس سے نیند میں خلل اور صحت کے  دیگر مسائل جیسے  سر درد، تھکاوٹ، اعصابی تناؤ، نیند کی کمی کی وجہ سے موٹاپا، ڈپریشن اور کینسر کی کئی اقسام لاحق ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں جن میں بریسٹ کینسر سر فہرست ہے۔

رایان کے مطابق سب سے زیادہ نقصان دہ اسمارٹ فونز کا استعمال ہے جس سے خارج ہونے والی روشنی بینائی اور مینٹل ہیلتھ کے مسائل کو بڑھا رہی ہے۔ لوگ چڑچڑے، غصیلے اور بد مزاج ہوتے جارہے ہیں اور ان کی برداشت  کی صلاحیت دن بدن کم ہو رہی ہے۔

اس حوالے سے پاکستان میں کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

رایان خان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ شہری علاقوں میں آبادی بڑھنے کے ساتھ پاکستان میں لائٹ پولوشن میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے جس میں کراچی سر فہرست ہے۔

 رایان ڈارک اسکائی تنظیم کے تحت پاکستان میں اس حوالے سے شعور و آگہی پیدا کر نے کے ليے کئی سالوں سے سر گرم ہیں اور عوامی مقامات پر ایک خصوصی تیار کردہ ‘کاسٹیوم‘ پہنتے ہیں۔ اس مکمل سیاہ کاسٹیوم میں سینسر لگے ہیں جو رایان کے اسمارٹ فونز سے منسلک ہيں اور روشنی پڑنے پر آواز پیدا کرتے ہيں۔

رایان بتاتے ہیں کہ اتنے سال گزر جانے کے باوجود وہ جہاں بھی اس کاسٹیوم میں جاتے ہیں لوگ انہیں ‘خلائی مخلوق‘ پکارتے ہیں ۔اس کا بنیادی آئیڈیا یہ ہے کہ روشنی  کی زیادتی ہمیں محسوس نہیں ہوتی مگر سیٹیوں یا شور کی صورت میں ہمیں احساس ہوگا کہ کس جگہ کتنی روشنی تفاوت میں ہے، جسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ 

ان کے مطابق مغربی ممالک کی طرح سب سے پہلے ہمیں ان ڈور اور آؤٹ ڈور لائٹ پالیسی بنانی اور رائج کرنا ہوگی تاکہ گھروں اور عوامی مقامات پر روشنیاں ان حدود کے اندر رہیں۔ رایان اس مقصد کے ليے کافی سرگرم ہیں اور ایک لائٹ امپلی مینٹیشن پالیسی تیار کر چکے ہیں۔

رایان کہتے ہیں کہ سب سے پہل عوام میں شعور پیدا کرنا ہوگا جس کے ليے وہ ورک شاپس، سیمینارز اور تعلیمی اداروں میں لیکچرز دیتے ہیں۔ رایان کا کہنا ہے کہ ہم سے کہیں زیادہ آنے والی نسل لائٹ پولوشن سے متاثر ہوگی لہذا بچوں کو اس بارے میں سمجھانا اور سکھانا انتہائی ضروری ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:12 کراچی، ماحولیاتی آلودگی اور کچرا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

1 × 1 =

Back to top button