ساتویں آسمان پر جنت کا دروازہ اور اس کی روشنی ۔۔ سائنسدانوں نے خلاء میں موجود اس دیوار کے بارے میں کیا راز بتا دیا؟

سوشل میڈیا پر منفرد اور حیرت انگیز معلومات تو بہت ہیں، مگر کچھ ایسی ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو آسمان پر موجود ایک ایسی روشن دیوار کے بارے میں بتائیں گے جس کے بارے میں گمان ہے کہ یہ جنت کی دیوار ہے۔

آسمان اور ستاروں کے درمیان کئی ایسی چیزیں ہیں جو کہ اب تک پراسرار ہیں، جن کے بارے میں اب تک انسان کو علم ہی نہیں ہے، جیسے کہ بلیک ہول، جس کی دوسری طرف کیا ہے کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں۔

اسی طرح اب سوشل میڈیا پر جنت کے دروازے سے متعلق بھی کافی خبریں چرچہ میں ہیں، 1992 میں ایک تصویر ناسا کی جانب سے شئیر کی گئی تھی جس میں خلاء میں موجود ایک ایسی جگہ کی تصویر شئیر کی گئی جس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

دی آئرش سن کی رپورٹ کے مطابق ناسا کی جانب سے لی گئی تصویرکو جنت کا دروازہ کہا جا رہا ہے، ایکس شیپ میں موجود اس روشن جگہ کے بارے میں چند ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جنت کا دروازہ ہو سکتا ہے، جس کے آس پاس کا ماحول بھی کافی سہانا اور دلچسپ ہے۔

دوسری جانب خلاء میں ہی چند ایسے ہی مقامات کی تصاویر کافی وائرل ہے جس میں ستاروں کی مدد سے ایک دیوار نما چیز کو دیکھا جا سکتا ہے جس کے بارے میں بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ جنت کا دروازہ ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خلاء کے جنوب میں ایک دیوار پائی گئی ہے، جسے ساؤتھ پول وال کا نام دیا گیا ہے جس میں ہزاروں کہکشاؤں، دھول، ستاروں اور گیس شامل ہیں۔

حیرت انگیز طور پر اس دیوار میں موجود کہکشاؤں کو عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہے، البتہ انہیں ٹیلی اسکوپ کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔ 2014 میں ڈاکٹر ٹولی نامی سائنسدان کا کہنا تھا کہ یہ منظر کچھ اس طرح ہے کہ کھلے آسمان یا جنت کی طرح معلوم ہوتا ہے، اگرچہ انہوں نے اسے جنت کی دیوار نہیں کہا مگر یہ تاثربھی دے دیا تھا کہ جنت سے مشابہت رکھتا ہے۔

لیکن بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ جنت عام دنیا جیسی بالکل بھی نہیں ہے اور اس میں موجود چیزیں وہ ہیں جو اس دنیا سے بالکل مختلف ہیں۔

دوسری جانب ایک اور تصویر بھی کافی وائرل ہے جس میں سلور رنگ کی دیوار نما چیز کو دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس حوالے سے یو اسی اے ٹوڈے کی رپورٹ میں کہنا تھا کہ یہ محض ڈیجیٹل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ایک جعلی تصویر ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

eighteen − sixteen =

Back to top button