سال 2021 کے شاندار خلائی مشن

سال 2021 میں انسانیت نے تجسس اور مہم جوئی کی جو تاریخ رقم کی ماضی میں اس کی مثال کبھی نہیں ملتی۔ نظامِ شمسی میں زمین کے پڑوسی سیارے میں کھدائی سے لے کر کائنات کی اتھاہ گہرائی میں پوشیدہ حقائق کی تلاش میں نکلنے تک اور خلائی سفر کو آسان بنانے سے لے کر ستاروں کو چُھونے تک سبھی کچھ اس سال ہوا ہے۔

اب چوں کہ عالمی خلائی اداروں کی جانب سے 2022 کے لیے بھی کچھ دلچسپ مہم طے کی جا چکی ہیں۔ ایک نظر خلاء سے متعلق ان شہ سرخیوں پر مار لیتے ہیں جنہوں نے 2021 میں اس میدان میں معلومات کا دائرہ مزید وسیع کیا۔درج ذیل گزشتہ 12 ماہ میں خلاء پر ہونے والی تحقیق اور اس میں ہونے والی تلاش کے متعلق اعلیٰ پیش رفت ہیں جو 2021 میں سامنے آئی ہیں۔خلائی سفر کی دوڑ2021 میں ایک ایسے خواب نے حقیقت کا روپ دھارا جس کو رچرڈ برینسن، جیف بیزوس اور ایلون مسک نے دیکھا تھا اور وہ ہے خلاء میں کمرشل پروازوں کی ابتداء۔جولائی 2021 میں رچرڈ برینسن کی ورجن کلیکٹک نے خلاء کی سیاحتی لیگ کی شروعات کی اور وہ ایسا کرنے والے پہلے ارب پتی بن گئے۔ان کے ہمراہ Unity22 مشن پر پانچ اور مسافر خلاء میں گئے۔جیف بیزوس کی بلیو اویجن نے بھی اس راہ پر چلتے ہوئے خلاء کا دورہ کیا اور کارمین لائن سے آگے تک کی پرواز کی۔ یہ لکیر بین الاقوامی سطح پر خلاء کی سرحد مانی جاتی ہے۔اپنے New Shepard راکٹ میں اپنے چھوٹے بھائی مارک بیزوس اور دو مزید مسافروں کے ہمراہ وہ 11 منٹ کے خلائی سفر پر گئے۔اور ان سب میں سب سے آخر میں ایلون مسک کی اسپیس ایکس کا Inspiration4 مشن خلاء میں گیا۔ستمبر میں لانچ کیے جانے والے اس مشن میں چار افراد کو تین دن کے خلائی سفر پر لے جایا گیا۔ یہ دورانیہ پچھلے ایسے سفروں کی نسبت بہت زیادہ تھا۔اس مشن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیتے ہوئے امید، رحم دلی، رہنمائی اور ترقی کی اقدار کی نمائندگی کی۔ان مشنز نے خلائی سیاحت کے نئے دور کا باب کھولا جس سے عوام تک اس کی رسائی میں معمولی سی نزدیکی آئی لیکن اس نہج پر پہنچنے کے بعد بھی خلائی سیاحت ایک انتہائی مہنگا کام ہے۔منزلِ مریخفروری 2021 میں تین روبوٹک تحقیقی مشنز مریخ پہنچے جن میں امریکا کا Perseverance، چین کا Tianwen-1 اور متحدہ عرب امارات کا Hopeشامل ہے۔ان مشنز کا مقصد زمین کے پڑوسی سیارے کے ماضی اور اس میں پوشیدہ حقائق کو سامنے لانا ہے۔یو اے ای کا ہوپ آربِٹر، جس کو مریخ کے باریک ایٹماسفیئر کے مطالعے کے لیے بنایا گیا ہے، کا مقصد مریخ کا سب سے پہلا عالمی نقشہ بنانا ہے۔جبکہ چین کے ٹیانوین-1 کا مقصد مریخ میں زیر سطح پانی اور برف کے ذخائر کا پتہ لگانا اور مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرنا ہے جو 2030 آنے والے مشنز کے ذیعے زمین پر واپس آئے گا۔ناسا کے پرسیورینس مشن کے چار مقاصد ہیں جن میں سب سے اوپر یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا مارس پر کبھی زندگی تھی یا نہیں۔ اب تک ناسا ایک کامیابی یہ حاصل ہو چکی ہے کہ اس نے مریخ کے ایٹماسفیئر میں Ingenuity نامی ہیلی کاپٹر کو اڑایا جو کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ستمبر میں پرسیورینس روور نے جیزیرو گڑھے سے مریخی چٹان کا سب سے پہلا نمونہ لے کر تاریخ رقم کی۔ یہ نمونے زمین پر واپس لائے جانے کے بعد مریخ کے متعلق مزید راز افشا کریں گے۔سامنے آتی پیچیدہ خلائی بلائیںبلیک ہولز خلاء کی ایک ایسی چیز ہے جِس کے متعلق سب سے زیادہ معلومات حاصل کی جانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کے متعلق سامنے آنے والی چھوٹی سے چھوٹی معلومات بھی بڑی خبر بنا دیتی ہے۔اس سال سائنس دانوں نے ان خلائی موجودات کے متعلق بہت سی ’پہلی‘ معلومات حاصل کیں۔مارچ میں سائنس دانوں نے بلیک ہول کے گرد مقناطیسی فیلڈز کے ہونے کے متعلق بتایا۔ انہوں نے ایسا Event Horizon Telescope کی ترتیب دی ہوئی بلیک ہول کی تصویر کو دیکھتے ہوئے بتایا۔یہ بات اب تک نا حل ہونے والے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اہم تھی کہ بلیک ہول کیسے اتنے طاقت ور اخراج کرتا ہے۔سائنس دانوں کی ایک اور شاندار کامیابی میں ایک پہلی چیز یہ بھی تھی کہ انہوں نے پہلی بار بلیک ہول کے پیچھے روشنی دیکھی۔اس شاندار دریافت نے البرٹ آئنسٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی کے ایک اور حصے کو عملی طور پر قابلِ دید بناتے ہوئے درست ثابت کیا۔اس کے علاوہ ماہرینِ فلکیات نے نیوٹرون ستاروں کے ساتھ دو بڑے بلیک ہولز کے مل جانے کے سب سے پہلے واقعات کے متعلق بتایا۔جیسے ہی یہ دو دیو ہیکل خلائی اجسام ٹکرائے، ان کے تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لہریں پوری کائنات میں پھیل گئیں جس میں کچھ ہماری زمین نے بھی محسوس کیں۔سیارچے کا پہلا مشناگر ہم یہ کہیں کہ 2021 میں ہمارا سیارچوں کے متعلق ملا جلا رجحان رہا تو غلط نہیں ہوگا۔ ایک طرف تو ہم ایسے مشنز لانچ کر رہے ہیں جو سیارچوں پر اتر رہے ہیں اور انہیں بہتر انداز میں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ہم ایسے منصوبے بنا رہے ہیں جو سیارچوں کو پاش پاش کر دیں۔اکتوبر میں ناسا نے لوسی نام کا پہلا مشن لانچ کیا جس کا مقصد سیارچوں کی پٹی میں موجود چٹانوں کے ساتھ مشتری کے ساتھ گردش کرنے والی چٹانوں کا مطالعہ کرنا ہے۔12 برس کے اپنے عرصے میں لوسی مشن سیاروں کی شروعات اور اس نظامِ شمسی کی تخلیق کے متعلق معلومات میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔لیکن کائنات کی شروعات کے راز لیے یہ سیارچے ہمارے سیارے کے لیے خطرہ بھی ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے ناسا اور اسپیس ایکس نے نومبر میں DART نامی مشن لانچ کیا ہے۔سیارے کے دفاع کے لیے آزمائی جانے والی یہ ٹیکنالوجیز تباہ کن سیارچوں کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے کے لیے بنائی گئیں ہیں۔ Dart تیز رفتاری سے ٹکرانے کر خلاء میں سیارچے کا رخ بدلنے کی تکنیک کا پہلا عملی مظاہرہ ہے۔تاریخی مشنز کے کامیاب نتائججہاں اس برس میں کئی زبردست مشنز شروع کیے گئے، اس سال پچھلے مشنز نے کمال پیش رفت پیش کی ہے۔1977 میں لانچ کیے گئے Voyager 1، جس خلاء اتنی گہرائی میں جہاں اس سے پہلے انسان کی بنائی کوئی شے نہیں گئی، نے آج تک کائنات کے کئی پنہاں رازوں کو عیاں کیا ہے لیکن 2021 میں اس نے اُس گہرائی میں کمزور پلازمہ لہروں کا مشاہدہ کیا۔اس دریافت کے ذریعے سائنس دان دور خلاؤں میں موجود موجودات کی کثافت کی پہلی بار پیمائش کرنے کے قبل ہوں گے۔سال کا اختتام بھی ناسا نے کامیابی کے ساتھ کیا۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار کسی اسپیس کرفٹ نے سورج کے خطرناک ماحول کو چھووا ہے۔ اس تاریخی کامیابی کا سہرا Parker Solar Probe کے سر جاتا ہے۔اس مشن سے حاصل ہونے والے نتائج کا انتظار ہے جس کی مدد سے سورج کی ارتقاء اور ہمارے نظامِ شمسی پر اس کے اثرات کے متعلق سمجھنے میں مدد ملے گی۔ایک اچانک نمودار ہونے والا مہمان2021 کا آخری مہینہ خلائی معاملات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے دم دار ستارے Leonard کے ساتھ کچھ اضافی دلچسپی لے کر آیا۔ ‘Once in a lifetime’ (زندگی میں ایک بار) کا نام پانے والا یہ دم دار ستارہ Leonard 12 دسمبر کو زمین کے قریب ترین آیا۔ اگلی بار اتنی قربت 35 ہزار سال بعد ہوگی۔اب تک کی سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ کی لانچشاندار ماہرینِ فلکیات اور انجنیئرز کی دہائیوں کی محنت کے بعد بالآخر جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کو خلاء میں لانچ کر دیا گیا ہے۔ٹیلی اسکوپ کی لانچ مختلف وجوہات کی بنا پر کئی بار التواء کا شکار ہوئی۔ تاہم، 25 دسمبر کو بالآخر اس کو لانچ کر دیا گیا۔ ٹیلی اسکوپ کی لانچ 2021 کی ایسی لانچ تھی جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا۔ناسا، یوروپین اسپیس ایجنسی اور کینیڈین اسپیس ایجنسی تینوں اداروں کے سائنس دانوں نے اس انفرا ریڈ ٹیلی اسکوپ کی تخلیق میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ یہ ٹیلی اسکوپ نظام شمسی سے باہر کے سیاروں اور ان کی متعدد خصوصیات، بلیک ہولز کے معاملات، کائنات کے ابتدائی دور اور دیگر چیزوں کے متعلق تحقیقات کرے گی۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button