سماعت سے محروم لیڈی ڈاکٹر، ’کہا گیا یہ شعبہ میرے لیے نہیں‘

بلوچستان کے ضلع کچھی سے تعلق رکھنے والی مہوش شریف نے بچپن سے ہی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا تھا تاہم چار سال کی عمر میں کان کے پردے خراب ہونے کی وجہ سے وہ سننے کی صلاحیت سے محروم ہوگئیں۔مہوش شریف کو اپنے خواب کو پورا کرنے میں منفی اور عصبیت پر مبنی رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کو عبور کرکے نہ صرف اپنا خواب پورا کرلیا بلکہ پاکستان کی پہلی ایسی خاتون ڈاکٹر بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا جو قوت سماعت سے محروم ہیں۔کوئٹہ کے فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر مہوش تپ دق، سینے اور سانس کی بیماریوں کا علاج کرتی ہیں۔ انہیں سننے کے لیے اپنے دونوں کانوں میں سماعت کے آلات لگانا پڑتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ، ساتھی ڈاکٹرز اورنرس ہی نہیں مریض بھی ان کے کام سے مطمئن اور رویے  کی تعریف کرتے ہیں۔ڈاکٹر مہوش نے اردو نیوز کو بتایا کہ وہ پیدائشی طور پر ٹھیک تھی تاہم چار سال کی عمر میں بیمار ہونے کے بعد ان کی سماعت متاثر ہوئی اور سننے کے لیے  ہیئرنگ ایڈ گیئرز (آلہ سماعت ) لگانا پڑے۔انہوں نے بتایا کہ ’سننے میں مشکل کے باوجود والدہ نے مجھے عام سکول میں داخل کرایا جہاں ٹیچرز کو اکثر شکایت ہوتی تھی کہ یہ ٹھیک سے سنتی نہیں اور بچے بھی مجھے بار بار تنگ کرتے تھے  کہ آپ نے کانوں میں کیا لگا رکھا ہے۔‘ان کے بقول ’حتیٰ کہ میں کوئی کھیل بھی نہیں کھیل سکتی تھی کہ میری ہیئرنگ گیئرز نہ گر جائیں۔ اس کے باوجود میں نے 2007 میں میٹرک میں اپنے سکول میں ٹاپ کیا۔‘مہوش نے بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی ڈاکٹر بننے کا شوق تھا اس لیے کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج میں داخلہ ٹیسٹ دیا جہاں ضلع  کے ساتھ ساتھ معذوروں کے لیے مختص کوٹہ پر بھی سیٹ مل گئی لیکن انہوں نے معذوروں کے لیے مخصوص کوٹہ کی بجائے اپنے ضلعے کے اوپن میرٹ پر حاصل ہونے والی سیٹ پر پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ڈاکٹر مہوش کے مطابق میڈیکل کالج میں داخلہ ملنے کے بعد وہ کافی خوش تھی کہ اب مشکلات نہیں ہوں گی مگر سکول سے زیادہ وہاں مشکلات پیش آئیں کیونکہ کالج کے پروفیسرز کا رویہ بہت برا تھا۔’اگلی نشست مشکل سے ملتی تھی تو مجھے لیکچر سننے میں مشکل ہوتی تھی، میرے اکثر ٹیچر مجھے بار بار تنگ کرتے تھے کہ یہ شعبہ آپ کے لیے نہیں ہے۔‘انہوں نے بتایا کہ ’وائیوا (زبانی امتحان) میں جب میں اساتذہ کو کہتی تھی کہ مجھے سوال لکھ کر دے دیں وہ مجھے لکھ کر ہی نہیں دیتے تھے اور پھر وہی ایک بات کہتے تھے کہ آپ کو جب مسئلہ ہے تو آپ اس پیشے میں آئی کیوں ہے؟‘

چار سال کی عمر میں بیمار ہونے کے بعد ڈاکٹر مہوش کی سماعت متاثر ہوئی۔ (فوٹو: اردو نیوز)

ان کا کہنا تھا کہ انہیں انتظامیہ کی طرف سے سماعت کے آلات استعمال کرنے کی اجازت بھی بہت مشکل سے ملتی تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ہیڈ فون ہیں۔ اس کے لیے خصوصی اجازت نامہ لینا پڑتا تھا جب بھائی اجازت نامہ لینے جاتے تو کافی باتیں سناتے کہ آپ کی بہن ڈاکٹر بن کر کونسا کارنامہ سرانجام دیں گی۔

’آخری امتحان میں بھی ایک پروفیسر نے صرف اس بات پر فیل کردیا کہ میں نے ہیئرنگ گیئرز کیوں استعمال کیے۔ پروفیسر نے مجھ سے نام، والد اور خاندان کے بارے میں پوچھا اور پھر سرجری سے متعلق مشکل سوالات کیے، میں نے سب کے جوابات دیے۔ اس کے باوجود انہوں نے فیل کردیا کہ آپ جھوٹ بولتی ہیں کیونکہ آپ سن سکتی ہیں۔‘مہوش کے مطابق ان کے ذہن میں تھا کہ جو بندہ سننے سے محروم ہے وہ بول بھی نہیں سکتا۔ ’انہوں نے یہی سوچا کہ یہ ہینڈ فری یوز کررہی ہیں تو مجھے فیل کر دیا۔ میں کافی دلبرداشتہ ہوگئی کہ سب چھوڑ دیا۔ پھر میرے بھائیوں اور میرے والدین نے ہمت دی اور مجھے دوبارہ امتحان کے لیے راضی کیا میں نے دوبارہ امتحان دیا اور الحمداللہ 2017 میں ایم بی بی ایس پاس کر لیا۔‘

ڈاکٹر مہوش نے 2007 میں میٹرک میں اپنے سکول میں ٹاپ کیا تھا۔ (فوٹو: اردو نیوز)

انہوں نے بتایا کہ ہاؤس جاب کے دوران بھی کافی مشکلات پیش آئیں۔

’مریض بات نہیں دہراتے تھے، مجھے ایک سوال دس دس بار پوچھنا پڑتا تھا۔ اس دوران والد کو خون کے کینسر کی تشخیص ہوئی تو پوری فیملی والد کے علاج کے لیے کراچی چلی گئی، میں اکیلی رہ گئی۔‘ڈاکٹر مہوش کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنے ذہن میں ایک بات ڈال لی تھی کہ آپ نے  یہ سب جنگیں اکیلے لڑنی ہیں۔ اس لیے میں نے تمام رکاوٹوں کے باوجود نہ صرف میڈیکل کی تعلیم حاصل کی بلکہ کوئٹہ کے ایک اور میڈیکل کالج میں ڈیڑھ سال تک بطور استاد اٹانومی کا مضمون پڑھایا اور 2021 میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے کوئٹہ کے فاطمہ جناح ہسپتال میں لیڈی میڈیکل افسر تعینات ہوئی۔‘انہوں نے کہا کہ ’آج یہی ہیئرنگ گیئرز میرا فخر بن گئے ہیں جس کی وجہ سے کبھی مجھے تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ آج میں عام لوگوں سے بڑھ کر ایک بہترین زندگی گزار رہی ہوں اور لوگوں کی خدمت کررہی ہوں۔‘’میں سب کو بھی یہی کہتی ہوں کہ زندگی میں کسی مقام تک پہنچنے کے لیے پہلے آپ کو خود پر یقین کرنا ہوگا۔‘ڈاکٹر مہوش ریڈیالوجی میں سپیشلائزیشن کرنا چاہتی ہیں۔ ’میری یہ کوشش ہے کہ باہر کے کسی اچھے ادارے سے سپیشلائزیشن کرکے واپس آکر اپنے ملک کی خدمت کروں۔‘

ڈاکٹر صادق بلوچ نے بتایا کہ ڈاکٹر مہوش معاشرے کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔ (فوٹو: اردو نیوز)

انہوں نے کہا کہ ایسے والدین جن کے بچے کسی جسمانی محرومی کا شکار ہیں وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دیں۔ اچھا ہنر سکھائیں تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ بنیں، ایک آزادانہ اور خود مختار زندگی گزاریں اورمعاشرے میں ایک بہترین مثال بنیں۔‘

فاطمہ جناح ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر صادق بلوچ نے بتایا کہ ’ڈاکٹر مہوش معاشرے کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ انہوں نے تمام رکاوٹوں کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔‘ان کا کہنا تھا کہ  کبھی کسی مریض یا ان کے ساتھی ڈاکٹر اور عملے نے ڈاکٹر مہوش کی  شکایت نہیں کی، وہ ان کے رویے اور کام سے مطمئن ہیں۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

1 × three =

Back to top button