سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی بڑی کامیابی کی جانب گامزن

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اب تک کے غیر سرکاری اورغیرحتمی نتائج کے مطابق سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی 362 نشستیں حاصل کرکے پہلی پوزیشن پر ہے۔ اپوزیشن کی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے 52 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔صوبہ سندھ کے 14 اضلاع میں اتوار کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ 694 ٹاون کمیٹی میں سے 479 ٹاون کمیٹیوں کے غیرحتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 361  نشستیں حاصل کر کے پہلے نمبر پر ہے۔جی ڈی اے 52 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر ہے۔ آزاد امیدوار ابتک 42 نشستوں پر کامیابی حاصل کر چکے ہیں جب کہ پاکستان تحریک انصاف کو نو اور جمعیت علمائے اسلام ف کو چھ نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔قبل ازیں دوران پولنگ مختلف علاقوں میں پر تشدد واقعات میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس اور رینجرز نے متاثرہ علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کیا اور پولنگ کے عمل کو جاری رکھا۔بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں پولیس سمیت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ سمیت دیگر شہروں میں بعض جگہوں پر کانٹے کے مقابلے دیکھنے میں آئے۔پولیس کے مطابق پولنگ کے دوران مختلف علاقوں میں پر تشدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، نوشہروفیروز کے علاقے بھریاسٹی میں ووٹرز کے درمیان تصادم ہوا۔ پولنگ کچھ دیرکیلئے روکی گئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو کیا۔کندھ کوٹ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پیپلزپارٹی کے کارکنان آمنے سامنے آگئے۔ تصادم کاواقعہ میونسپل کمیٹی وارڈنمبر 10 میں پیش آیا جہاں لاٹھیاں لگنے سے 30 کارکن زخمی ہو گئے، جبکہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

آزاد امیدوار ابتک 42 نشستوں پر کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

جھگڑے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پا لیا۔ ٹھل کی یوسی 28 پر پیپلزپارٹی اور جے یو آئی ف کے کارکنان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سات افراد زخمی اور تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

نواب شاہ میں پولنگ سٹیشن نادر شاہ ڈسپنسری میں ہنگامہ آرائی کا واقعہ پیش آیا۔ امیدوار کا کہنا تھا کہ ’بیلٹ پیپر میں ہماری جماعت کانشان نہیں ہے۔‘ ہنگامہ آرائی کے باعث پولنگ روک دی گئی تھی۔ حکومت سندھ کی جانب سے بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے چالیس ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ 42 ایس ایس پیز اور 82 ڈی ایس پیز پولنگ کے عمل کی نگرانی پر مامور تھے۔ کوئیک رسپانس کے لیے رینجرز کو سٹینڈ بائی رکھا گیا۔ حلقوں میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد تھی اور صورتحال خراب کرنے والوں کے خلاف فوری مقدمہ درج کیے جانے کے احکامات دیے گئے تھے۔سندھ کے 14 اضلاع میں چیئرمین، وائس چیئرمین یونین کونسلز، میونسپل کمیٹیز، ممبر ضلع کونسلز اور جنرل کونسلرز کی نشستوں پر 21 ہزار 298 امیدوار مدمقابل تھے۔پہلے مرحلے میں ضلع کونسل کی 794 نشستوں پر 2 ہزار 604 امیدوار میدان میں تھے۔ 694 ٹاؤن کمیٹیز کے لیے 3 ہزار 325 امیوار موجود تھے۔ میونسپل کمیٹیز کی 354 جنرل نشستوں کے لیے 2 ہزار435 امیدوار مدمقابل تھے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

seven + nineteen =

Back to top button