سولر پینل، ٹریکٹر سستے، فون کالز، ایئر ٹکٹ اور سگریٹ مہنگے

پاکستان میں اتحادی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ برائے سال 23-2022 پیش کر دیا ہے جس میں متعدد اشیا پر ٹیکس اور ڈیوٹی کی شرح بڑھانے جبکہ زرعی شعبے سمیت کچھ اشیا پر ڈیوٹی کم یا ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے نتیجے ان کی قیمتیں کم ہوں گی۔بجٹ دستاویزات کے مطابق سولر پینل، زرعی آلات اور ادویات میں استعمال ہو نے والی اشیا سستی ہوں گی جبکہ فون کالز، انٹرنیٹ، ایئر ٹکٹ اور پراپرٹی کے ریٹس بڑھنے کا امکان ہے۔مہنگی ہونے والی اشیادستاویزات کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن خدمات پر ایکسائز ڈیوٹی 16 سے بڑھا کر 19.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے جس کا مطلب ہے فون کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ کے ریٹس میں اضافہ ہو گا۔بجٹ دستاویزات کے مطابق انٹرنیشنل ایئر ٹکٹ پر ٹیکس 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔ اس سے انٹرنیشنل سفر کا کرایہ بڑھے گا۔ اسی طرح کلب، بزنس، فرسٹ کلاس کے ایئر ٹکٹ پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے۔ اسی طرح مقامی سگریٹس پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین عاصم احمد نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ فی سگریٹ 20 سے 40 پیسے مہنگا ہو جائے گا۔دوسری طرف وفاقی بجٹ میں موبائل فونز کی درآمد پر 100 روپے سے 16 ہزار روپے تک لیوی عائد کر دی گئی۔سینیئر صحافی مہتاب حیدر نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس وقت تو موبائل فون کی درآمد پر پابندی ہے اور صرف مقامی تیار کردہ فونز کی فروخت ہو رہی ہے مگر جب پابندی ختم کی جائے گی تو اس پر لیوی کا اطلاق ہو جائے گا تاہم ابھی واضح نہیں کہ گزشتہ حکومت کی عائد کردہ کسٹم ڈیوٹی بھی برقرار رہے گی یا نہیں۔بجٹ دستاویز کے مطابق 30 ڈالرز کے موبائل فون پر 100 روپے اور 30 ڈالرز سے 100 ڈالرز مالیت کے موبائل فونز پر 200 روپے لیوی عائد کی گئی ہے۔

بجٹ میں درآمدی فون پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔ فوٹو: ان سپلیش

بجٹ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 200 ڈالرز کے درآمدی موبائل فون پر 600 روپے، 350 ڈالرز مالیت کے موبائل فونز پر 1800 روپے اور 500 ڈالرز کے موبائل فون پر 4000 روپے لیوی عائد کی گئی ہے۔ بجٹ میں 700 ڈالرز مالیت کے موبائل فون پر 8000 روپے اور 701 ڈالرز یا اس سے زائد مالیت کے موبائل فون پر 16 ہزار لیوی عائد کی ہے۔

دستاویزات کے مطابق لگژری گاڑیوں یا 1600 سی سی سے زیادہ پاور کی گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے۔ نان فائلرز اگر 1600 سی سی گاڑی خریدتا ہے تو ٹیکس کی شرح کو 100 فیصد سے بڑھا کر 200 فیصد کیا جائے گا۔ اسی طرح مسافر گاڑیوں پر سالانہ ایڈوانس ٹیکس بڑھانے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔اسی طرح بڑے بڑے فارم ہاؤسز پر ٹیکس لگانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ میں اڑھائی کروڑ روپے سے زائد کی غیر استعمال شدہ پراپرٹی پر ٹیکس کی تجویز شامل ہے۔ اسی طرح فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خرید وفروخت پر ٹیکس ایک سے بڑھا کر 2 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق فعال ٹیکس دہندہ نہ ہونے پر پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 100 سے بڑھا کر 250 فیصد کیا جا رہا ہے۔سستی ہونے والی اشیابجٹ دستاویزات کے مطابق لوڈ شیڈنگ سے بچنے کے لیے شمسی توانائی استعمال کرنے والوں کے لیے اچھی خبر ہے کہ گزشتہ حکومت کی طرف سے سولر پینل اور متعلقہ مشینری پر عائد کردہ ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جس سے سولر سسٹم سستے ہوں گے۔ سولرپینل کی درآمد اور ترسیل (ڈسٹری بیوشن) پر ٹیکس صفر کیا جا رہا ہےاسی طرح زرعی مشینری، ٹریکٹر، گندم، چاول، بیج سمیت اس شعبے میں استعمال ہونے والی دیگراشیا اور ان کی ترسیل پر ٹیکس صفر کیا جا رہا ہے۔

مسافر گاڑیوں پر سالانہ ایڈوانس ٹیکس بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

زرعی مشینری کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنٰی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ زرعی شعبے کی مشینری، اس سے منسلک اشیا، گرین ہاﺅس فارمنگ، پروسیسنگ، پودوں کو بچانے کے آلات، ڈرپ اریگیشن، فراہمی آب سمیت ہر طرح کے زرعی آلات کو ٹیکس سے استثنٰی دیا جا رہا ہے۔

ادویات بنانے میں استعمال ہونے والے اجزا کو کسٹم ڈیوٹی سے مکمل استثنٰی دیا جا رہا ہے جس میں ادویات بنانے میں استعمال ہونے والا مختلف اقسام کا بنیادی مواد بھی شامل ہے۔اسی طرح سیونگ سرٹیفیکیٹ (بچت سکیموں)، پینشن فوائد اور شہدا کے اہل خانہ کی فلاح وبہبود کے کھاتوں میں سرمایہ کاری کے منافعے پر لاگو ٹیکس کو 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کیا جا رہا ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

eight − 3 =

Back to top button