سپریم کورٹ نے خط کا معاملہ دیکھنےسے انکار کردیا تھا،اسدعمر

رہنما تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ خط کے معاملے میں بیرونی سازش یا مداخلت ہوئی یا نہیں ہوئی بلکہ عدالت نے میرٹ دیکھنے سے انکار کردیا تھا۔سماء کے پروگرام آواز میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے خط کے معاملے پر کوئی ججمنٹ ہی نہیں دی صرف اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ خط پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے جبکہ کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں بھی مذکورہ اعلامیے کی توثیق کی گئی تھی۔رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے جس کے لیے ان کو ہر وقت تیار رہنا چاہئے مگر الیکشن کمیشن کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے فوری الیکشن سے انکار کردیا تھا مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔اسدعمر کا کہنا تھا کہ ایک کمزور ترین مخلوط حکومت ہے،وزیراعظم کے پاس اختیار نہیں، اخبار لکھ رہے ہیں ہم سری لنکا جیسے حالات سے ہفتوں دور ہیں، اس صورتحال سے نکلنے کیلئے الیکشن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، ن لیگ کے لوگوں سے پوچھیں تو زیادہ تر کہیں گے الیکشن ہوناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کابینہ اراکین کے حوالے سے انکوائری ہونی چاہیے،اور ان کے اثاثوں کے بارے میں مزید سوالات پوچھنے کی ضرورت ہے تو پو چھنے چاہیے۔اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق اسدعمر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کسی کو اعراض ہو تو وہ اپیل میں جاسکتے ہیں مگر جو لوگ پاکستان کے ٹوٹل ایکسپورٹ سے زیادہ ترسیلات زر بھیجتے ہیں ان کو ووٹ کا حق ملنا چاہئے۔رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ن لیگ کا یہ موقت مضحکہ خیز ہے کہ چونکہ اوورسیز پاکستانی ملک سے باہر رہتے ہیں اسلئے ان کو ملکی حالات کا پتہ نہیں ہوتا مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ہم سے زیادہ ملکی حالات کے بارے میں باخبر رہتے ہیں۔اسدعمر نے کہا کہ آدھی وفاقی کابینہ اس وقت ایک اوورسیز پاکستانی سے مشورہ کےلیے لندن میں موجود ہیں مگر دوسرے طرف کہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں ملنا چاہئے یہ دوہرا معیار ہیں۔تحریک انصاف حکومتی کارکردگی سے متعلق اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے کہ ہم نے اپنے وعدے کس حد تک پورے کیے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

18 − 1 =

Back to top button