سیاسی شدت پسندی کم کرنےکی ضرورت ہے،علامہ طاہر اشرفی

وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی شدت پسندی کو کم کرنے کی ضرورت ہے اورانتخابی اصلاحات کے بعد ہی عام انتخابات ہونے چاہئے۔اسلام آباد میں وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ حرمین شریفین پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اورجو واقعہ ہوا اس کی مذمت تمام سیاسی جماعتوں کو کرنی چاہئے۔علامہ طاہراشرفی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو مسلم لیگ (ن) کے لوگوں سے بھی جوڑا گیا تاہم ہم صاف کہہ رہے ہیں کہ جس نے بھی غلط کیا وہ سب قابل مذمت ہے۔نمائندہ خصوصی نے کہا کہ ہم نے فوری طورپر کہا کہ قانون توہین رسالت کا سیاسی استعمال نہیں ہونا چاہئے،وزیراعظم شہبازشریف اوروزیرداخلہ رانا ثناء نے یقینی بنایا کہ اس قانون کا غلط استعمال نہیں ہوگا تاہم حکومتی یقین دہانی کے باوجود شیریں مزاری نےعالمی اداروں کوخطوط لکھ دیئے اور یہ پاکستان کےخلاف کیس بنا کردیا جارہا ہے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان خود محب رسول ﷺ ہیں، اس لئے وہ اس خط کو واپس لینے کا حکم دیں۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ متحدہ علماء بورڈ کی طرف سے ہوم سیکرٹری، وزیر اخلہ و وزیراعظم سمیت علما کوخطوط لکھےگئے،ہم نے مسجد نبوی واقعہ کے حوالے سے درج تمام مقدمات متحدہ علما بورڈ کو بھیجنے کی درخواست کی ہے۔معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج پربلاوجہ سیاست میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے،یہ کوئی محمد شاہ رنگیلا کا دور نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ پاسپورٹ بھی امریکہ کا رکھتے ہیں مگر سازش بھی امریکہ کی کہتے ہیں، اگرپاکستان کے خلاف سازش ہورہی ہے تو پھروہ امریکہ کی مدد سے آپ کررہے ہیں،اگرآپ خط واپس نہیں لیتے تو پھر جلد بازی میں یہ خط کیوں لکھا اور یہ خط اسلامی نظریاتی کونسل اوراوآئی سی کو کیوں نہیں لکھا۔تحریک انصاف کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ منحرف ارکان کوکوئی ہانک کر تو نہیں لے گیا تھا، میرجعفرومیرصادق وہ ہوتے ہیں جو فوج اور قوم میں تقسیم پیدا کرے،میرے خلاف سوشل میڈیا مہم چلانے والے پہلے بتائیں کہ میں نے اس اقتدار سے کیا فائدہ حاصل کیا۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

five × five =

Back to top button