’عدالتی فیصلے کے بعد لانگ مارچ کے لیے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا‘

سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ بیرونی سازش کے تحت پاکستان پر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی۔

جمعے کو بونیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ان کی حکومت ختم کرنے کے لیے انڈیا، اسرائیل اور امریکہ نے مل کر سازش کی۔‘انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور نواز شریف بھی اس سازش کا حصہ بنے۔ ہماری حکومت گرائی گئی تو انڈیا میں ایسے خوشیاں منائی گئیں جیسے شہباز شریف نے شہباز سنگھ حکومت میں آیا ہو۔‘عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں، نیوٹرلز سے پوچھنا چاہتا ہوں، بسمہ اللہ آپ بے شک نیوٹرل ہوجائیں۔‘’نیوٹرل ہونا اچھی چیز ہے لیکن ملک کی سالمیت بھی ضروری ہے۔‘’میں نے انہیں بتایا کہ اگر ہماری حکومت کے خلاف سازش کامیاب ہوگئی تو ملک کو بہت نقصان ہوگا۔ ملک مضبوط ہوگا تو اس کا دفاع بھی مضبوط ہوگا۔‘انہوں نے کہا کہ یہ جو کہہ رہے کہ عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ یہ غداری کا مقدمہ کر کے مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔‘عمران خان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف پانامہ میں پکڑا گیا، سزا یافتہ مفرور ہے اور ملک سے بھاگا ہوا ہے، وہ فیصلہ کرے گا کہ میں غدار ہوں؟‘اسلام آباد کی جانب دوبارہ لانگ مارچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہمارے وکلا کا کہنا ہے کہ ہمیں تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔‘چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا ’یہ الیکشن نہیں جیت سکتے کیونکہ یہ عوام میں نہیں جا سکتے، الیکشن کمیشن کو ساتھ ملا کر پورا میج فکس کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔‘

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

seventeen − 7 =

Back to top button