ماحولیاتی تبدیلی، گرم ترین شہر جیکب آباد کی حاملہ خواتین ’خطرے میں‘

سوناری اور وڈیری جیکب آباد کے مرکز سے تقریباً 10 کلو میٹر دور خربوزے کے کھیتوں میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت میں کام کر رہی ہیں۔وہ ہر روز صبح 6 بجے کام شروع کرتی ہیں اور دوپہر میں گھر کے کاموں اور کھانا پکانے کے لیے مختصر وقفہ لیتی ہیں اور پھر دوبارہ کھیتوں میں واپس آ جاتی ہیں۔سوناری 20 برس کی اور حاملہ ہیں جبکہ ان کی 17 سالہ پڑوسی وڈیری نے چند ہفتے قبل ایک بچے کو جنم دیا تھا۔ سوناری نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’جب گرمی پڑتی ہے اور ہم حاملہ ہوں تو ہم تناؤ محسوس کرتی ہیں۔‘جنوبی پاکستان کی یہ خواتین اور دنیا بھر میں ان جیسی لاکھوں خواتین موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔1990 کی دہائی کے وسط سے کی گئیں 70 تحقیقی مطالعے کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طویل عرصے تک گرمی کا سامنا کرنے والی حاملہ خواتین میں پیچیدگیوں کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ میٹا تجزیے کے مطابق درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری اضافے سے مردہ بچوں اور قبل از وقت پیدائش کی شرح میں تقریباً پانچ فیصد اضافہ ہوتا ہے۔کولمبیا یونیورسٹی میں گلوبل کنسورشیم آن کلائمیٹ اینڈ ہیلتھ ایجوکیشن کی ڈائریکٹر سیسلیا سورنسن کا کہنا ہے کہ ’حاملہ خواتین کے لیے گرمی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ خواتین کی صحت پر گلوبل وارمنگ کے ظاہر ہونے والے اثرات کا ریکارڈ ناکافی ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ شدید گرمی دیگر عوامل کو بھی بڑھا دیتی ہے۔‘جیکب آباد کی ایک درجن سے زائد خواتین کے انٹرویوز اور انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق غریب ممالک میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے خواتین خاص طور پر خطرے میں ہیں کیونکہ بہت سی خواتین کے پاس حمل اور پیدائش کے فوراً بعد کام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔‘

تحقیق کے مطابق طویل عرصے تک گرمی کا سامنا کرنے والی حاملہ خواتین میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے (فوٹو: روئٹرز)

پاکستان میں عام طور پر خواتین تنگ کمروں جن میں وینٹیلیشن کا خاص نظام نہیں ہوتا، خاندان کے لیے چولہے پر کھانا پکاتی ہیں جو صورتحال کی سنگینی کو بڑھا دیتا ہے۔

سورنسن نے مزید کہا کہ ’اگر آپ اندر گرم آگ پر کھانا پکا رہی ہیں تو آپ کو اضافی گرمی کو بھی سہنا پڑتا ہے جو صورتحال کو زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے۔‘جیکب آباد کے تقریباً 200،000 رہائشی بخوبی جانتے ہیں کہ وہ دنیا کے گرم ترین شہروں میں سے ایک میں رہ رہے ہیں۔اس علاقے میں ازراہ مذاق کہا جاتا ہے کہ ’اگر ہم جہنم میں گئے تو کمبل لیں گے۔‘گذشتہ ماہ 14 مئی کو درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جو سال کے اس حصے میں غیرمعمولی تھا۔22 سالہ امدادی کارکن لیزا خان نے کمیونٹی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن نامی ایک غیر منافع بخش گروپ کے ساتھ مل کر تین ہیٹ سٹروک ریسپانس سینٹرز قائم کیے ہیں۔لیزا خان نے جیکب آباد اور سندھ کے وسیع علاقے میں بہت سی خواتین کی حالت زار کے بارے میں بتایا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں کوئی نہیں دیکھتا، کوئی ان کی پرواہ نہیں کرتا۔‘

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

one × 5 =

Back to top button