مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 55 ویں برسی

باوقار، باصلاحیت اور حوصلہ مند بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 55 ویں برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جاری ہے۔  اس موقع پر ان کے مزار پہ  فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

محترمہ فاطمہ جناح کی قومی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سیاسی و سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے مزار پر حاضر دی اور گلپاشی کرنے کے بعد ان کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

فاطمہ جناح30 جولائی 1893 کو پیدا ہوئی تھیں۔ 1919 میں یونیورسٹی آف کلکتہ سے انہوں نے ڈینٹل سرجن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ممبئی میں باقاعدہ پریکٹس کی۔

ان کی شادی 1918 میں ہوئی تھی۔ لیکن جب 1929 میں ان کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو وہ اپنا نجی کلینک بند کرکے بھائی کے گھر منتقل ہوگئیں۔

بھائی محمد علی جناح کے گھر منتقل ہونے کے بعد انہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔

مادر ملت نے قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آبادکاری جیسا اہم کام اپنی نگرانی میں انجام دیا۔ انہوں نے ویمن ریلیف کمیٹی قائم کی اور پاکستان ویمن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔

فاطمہ جناح نے قیام پاکستان کی تحریک میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ مسلمان خواتین میں تحریک ازادی کی شمع روشن کرنے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔

جنرل ایوب خان نے نے جب 1965 میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا تو فاطمہ جناح کو حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے اپنا مشترکہ امیدوار نامزد کیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کو 9 جولائی 1967 کو دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئی تھیں۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

twenty − 3 =

Back to top button