ماریہ میمن کا کالم، پاکستان کی سیاست ایک بند گلی میں داخل

اپریل کے مہینے کا آغاز سیاسی ہلچل سے ہوا تھا اور اختتام سیاسی ہنگامہ خیزی کے ساتھ ہوا ہے۔ عمران خان نے حکومت پر تنقید بڑھا دی ہے اور مئی کے آخر میں اجتجاج تحریک کی کال بھی دی ہے۔دوسری طرف حکومت نے سعودی عرب میں مقدس مقامات پر ہوۓ واقعات کو لے کر نہ صرف توہین مذہب کی ایف آئی آر درج کرائی ہے بلکہ سینیئر رہنماؤں کی گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔اس کے ساتھ ہی لگتا ہے کہ پاکستان کی سیاست ایک بند گلی میں داخل ہو چکی ہے۔  بند گلی کا مطلب یہ ہے اب فریقین کو آگے جانے کا راستہ نظر نہیں آ رہا اور اب وہ رک کو ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں گے اور اس کے بعد آگے بڑھنے کی صورت نکالیں گے۔ بند گلی میں ہلکی پھلی تنقید سے کام نہیں چلتا بلکہ ایک دوسرے پر حملے کیے جاتے ہیں ، زخم لگائے جاتے ہیں اور مخالفین کو مقدموں میں جیل بھیجا جاتا ہے۔ 90 کی دہائی میں بھی یہ فلم چل چکی ہے اور اس وقت بھی اس کے نتائج بیرونی قوت کی آمد پر منتنج ہوۓ تھے۔ اب بھی حالات اسی نہج پر جاتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حالات کو اس نہج پر ڈالنے کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اگر بات عمران خان کی ہو تو وہ مکمل جنگی موڈ میں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی چلتی حکومت کو ختم کیا گیا اور وہ لوگ جو کچھ عرصہ پہلے تک جیلوں میں تھے وہ مسند اقتدار پر بیٹھے ہیں۔عمران خان کے سپورٹر شاید ان سے بھی زیادہ جذباتی اور غصے میں ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے نے ان میں ایک نئی توانائی بھر دی ہے۔ سوشل میڈیا اور جلسوں میں ان کا جوش اور غصہ اپنے زوروں پر ہے۔اسی کا نتیجہ حالیہ واقعات کی شکل میں سامنے آیا ہے۔اس جوش و خروش کا اثر براہ راست قیادت پر بھی پڑا ہے۔ ممکن تھا کہ وہ اپوزیشن میں کچھ دیر انتظار کرتے مگر اپنے ووٹرز کا ردعمل دیکھ کر انہوں نے موسم اور دیگر مصروفیات کو سائیڈ پہ رکھ کے اجتجاجی تحریک کا ماحول پیدا کر دیا ہے ۔ دوسری طرف اگر حکومت کے طرف دیکھا جائے تو ان کے طرف سے ایک علیحدہ تناؤ ہے۔ زیادہ تر قیادت جیلوں میں رہی ہے۔ ان کے حلقوں اور علاقوں میں بھی مقدمات اور ایکشن ہوا۔

بند گلی کا مطلب یہ ہے اب فریقین کو آگے جانے کا راستہ نظر نہیں آ رہا اور اب وہ رک کو ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں گے اور اس کے بعد آگے بڑھنے کی صورت نکالیں گے: فوٹو اے ایف پی

وہ اقتدار میں آ کر اگر واضح انتقامی کاروائیاں نہ بھی کرنا چاہتے ہوں تو اپنی پوزیشن کو استعمال کر کے دباؤ ضرور بڑھانا چاہتے ہی ۔ ان کی کارروائیاں سیاسی اور ذاتی دونوں وجوہات سے پی ٹی آ ئی کی قیادت کے طرف ہی ٹارگٹ کر رہی ہیں۔ 

سیاست میں عدم برداشت ، انتقام اور غصہ براہ راست معاشرے ہو نیچے تک متاثر کرتا ہے ۔ سیاسی مخالفین کو دشمن کا درجہ دینے کو نقصان دیر پا ہوتا ہے۔ ان حالات میں کوئی چھوٹا سا واقعہ بھی ایسی چنگاری ثابت ہو سکتا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی کا پیش خیمہ بن جاۓ ۔ اس طرح کے واقعات کا سد باب تمام سیاسی جماعتوں کی ہی ذمہ داری ہے مگر اس میں زیادہ کردار حکومت وقت کا ہے۔

دوسری طرف اگر حکومت کے طرف دیکھا جاۓ تو ان کے طرف سے ایک علیحدہ تناؤ ہے: فائل فوٹو اے ایف پی

ن لیگ 1990 کی دہائی کی سیاست سے گزر کر یہاں پہنچی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ملک اور معاشرے کو دوبارہ اس بند گلی میں دھکیلنا چاہتے ہیں یا پھر وہ خود کو اور اپنے سیاسی مخالفین کو ایسا راستہ دینا چاہیں گے جس میں اختلاف ہو مگر بات تصادم تک نا پہنچے۔

امید ہے کہ ان کے درمیان موجود تجربہ کار اور سمجھدار سیاسی دماغ لوگوں کو حالات کی سنگینی اور ان حالات میں ٹھہراؤ کی اہمیت کا اندازہ ہو گا۔ ورنہ بند گلی میں زیادہ رہنے میں کسی کا بھی فائدہ نہیں ہے۔ 

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

twenty − nine =

Back to top button