ماں نے مجھے گود لیا تھا، شادی کے بعد میں نے بھی بچی گود لی کیونکہ۔۔ یتیم خانے سے ننھی پری کو گود لینے کے بعد خاتون نے اسکے ساتھ کیا کیا؟

ماں باپ کا پیارایک واحد ایسا پیار ہے دنیا میں جس کی کوئی حد نہیں ہوتی، ایک ماں اپنی اولاد سے کس قدر محبت کرسکتی ہے اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ ویسے تو ہر ماں اپنے بچے سے بے پناہ محبت کرتی ہے لیکن دنیا میں کچھ ایسی بھی مائیں ہیں جو باقیوں کے لئے مثال قائم کردیتی ہیں۔

آج ہم ایک ایسی ہی ماں کی کہانی آپ کو بتا رہے ہیں، سوشل میڈیا پرہیومن آف ممبئی کی ویب سائیٹ پر شائع ہونے والی یہ کہانی ایک یتیم بچی کی ہے جسے پیدا ہوتے ہی گود لے لیا گیا تھا اور قسمت کی بات ہے اس بچی کو ملنے والے والدین بہت اچھے تھے۔

تعلیم و تربیت:


گود لینے والے والدین نے اس بچی کی پرورش اپنے دل و جان سے اور بہت اچھے طریقے سے کی، اسکی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور جوان ہونے پراس کے لیے بہترین ہمسفر کا انتخاب کیا۔

بیٹے کی پیدائش کے بعد:

خاتون نے بتایا کہ بیٹے کی پیدائش کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے والدین نے مجھے کس قدر محبت دی ہے اوراب میں بھی اس احساس کو آگے پہنچانا چاہتی تھی اس لیے میں نے اور میرے شوہر نے یہ فیصلہ لیا کہ ہم ایک بچہ گود لینگے۔

ہمارے گھر آئی ایک ننھی پری:

اپنے شوہر سے اس بارے میں بات کرنے کے بعد ہم نے یتیم خانے سے ایک بچی گود لی جس کا نام ہم نے انایا رکھا۔ جس دن وہ بچی ہماری بیٹی بن کرگھر آئی اس دن میرے بیٹے نے اسے دیکھتے ہی خوشی سے چلایا کہ میری چھوٹی بہن آگئی اور وہ احساس اس قدر خوبصورت تھا کہ اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
اپنے والدین کو انایا سے پیار کرتا دیکھ کہ مجھے وہ دن یاد آگئے جب وہ مجھ سے بھی اسی طرح پیار کرتے تھے۔ آج مجھے ان کی وہ بات یاد آگئی جب وہ مجھے گلے لگا کر کہا کرتے تھے کہ اب ہماری خوابوں کی فیملی مکمل ہوگئی۔ اب میں بھی یہی محسوس کر رہی ہوں۔

انمول موتی:

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ “جیسا بو گے ویسا ہی کاٹو گے” اس خاتون کی ماں نے جس محبت سے اپنی بیٹی کو پالا وہی محبت اس نے اسے دوسروں سے بھی کرنی سکھائی جس کے تحت اس نے بھی وہی پیارایک یتیم بچی کو دیا جو اسے اپنی ماں سے حاصل ہوا۔ اس پوری کہانی میں اس کے شوہر کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ کیونکہ آج کے معاشرے میں جہاں اب بھی لوگ بیٹے کے پیدا ہونے پر فیملی کو مکمل سمجھتے ہیں ایسے میں ایک بچی کو گود لینا اسکی تعلیم و تربیت کرنا واقعی میں ایک قابل ستائش عمل ہے ایسے لوگوں کو جتنا سراہا جائے اتنا کم ہے۔ ایسی مثبت سوچ سے ہی معاشرہ پھلتا ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

4 − 4 =

Back to top button