مجھے حمل کے دوران بھی ماہواری ہوتی تھی ۔۔ خاتون کی کہانی جن کو دورانِ حمل ہر ماہ پیریڈز ہوتے رہے، کیا یہ نارمل ہے؟

ماہواری بالغ ہونے کی نشانی ہے۔ جب خواتین حاملہ ہوتی ہیں ان کی ماہواری رک جاتی ہے کیونکہ جسم میں بچے کی نشوونما ہورہی ہوتی ہے۔ جوں ہی ڈیلیویری ہوتی ہے اس کے بعد ہی ماہواری شروع ہو جاتی ہے اور پھر یہ ہر ماہ اپنے وقت پر کچھ دن آگے اور کچھ بعد دن بعد میں ہوتی ہے جو کہ ایک نارمل طریقہ کار ہے اور تقریباً ہر خاتون کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔
آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ایک ایسی بھی خاتون ہے جس کو حمل کے دوران بھی پیریڈز ہر ماہ تواتر سے ہوتے رہے اور وہ ایک صحت مند بچے کی ماں بھی ہیں۔

حمل کے دوران پیریڈز ہونا یہ ایک غیر یقینی بات ہے اور ہر عورت اس بات سے لاعلم ہے کیونکہ ایسا شاید کم ہی ہوتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق 100 میں سے 1 فیصد خواتین کے ساتھ ایسا ہوتا ہے یا پھر 100 فیصد میں سے 1 خاتون کو یہ مسئلہ ہوتا ہے جس میں حمل کے دوران ماہواری ہوتی ہے اور ہر ماہ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ دراصل اس کو implantation bleeding کہا جاتا ہے۔

جب بچہ دانی میں فرٹیلائزڈ ایگ لگتا ہے تو کچھ مقدار میں خون بہہ سکتا ہے۔ ڈاکٹر اس امپلانٹیشن کو بلیڈنگ کہتے ہیں۔ یہ عام طور پر اسی وقت ہوتا ہے جب لڑکی کو عام طور پر ماہواری آتی ہے۔
اور حمل کے دوران بھی یہ اپنے وقت سے ہی ہوتی ہے یا بعض اوقات اچانک بھی شروع ہو جاتی ہے۔
اکثر حاملہ خواتین کو تھوڑی دیر کے لیے یا صرف 1 سے 2 دن کے لیے بلیڈنگ ہوتی ہے جس کو ڈاکٹر نارمل کہتے ہیں کیونکہ ایسا اکثر ہوتا ہے مگر جب یہ حد سے زیادہ ہو جائے تو بچے کے دل کی دھڑکن ختم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

اس کیفیت سے گزرنے والی نایاب خواتین کو جسمانی صحت کے حوالے سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں سینے کی تکلیف، مستقبل میں سینے میں گٹھلی بننے کا عمل اور دوسری مرتبہ ماں بننے کے لیے تیار نہ ہونا ہیں۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

two × four =

Back to top button