محبت بھی کی، شادی بھی اور اب گردہ بھی دے دیا ۔۔ بیوی نے شوہر کی جان بچانے کے لیے اپنا گردہ عطیہ کردیا

میاں بیوی کا رشتہ دنیا میں تمام تر رشتوں سے افضل ہے۔ اس رشتے میں جہاں ایک ہمت ہارتا ہے وہاں دوسرا اپنے ساتھی کو ہمت بھی دیتا ہے اور طاقت بھی۔ لیکن اس سب کے ساتھ اگر برا وقت پڑنے پر میاں یا بیوی اپنے ساتھی کو اپنے جسم کا کوئی ٹکڑا عطیہ کردیں تو یہ محبت سب سے زیادہ بے مثال ہے۔ کراچی کی اسماء سراج نے اپنے شوہر عمر کو وقت پڑنے پر گردہ تک عطیہ کردیا۔

یہ دونوں بچپن سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور دونوں نے اپنی محبت کو نکاح جیسے خوبصورت بندھن میں باندھ کر یہ واضح کیا کہ محبت کرے انسان تو سچے دل سے قبول کرے چاہے راستے میں کتنی ہی مشکلات آئیں۔ دونوں نے شادی بھی کی اور ان کے 2 بچے بھی ہیں۔ اسماء بتاتی ہیں کہ:

شادی سے 1 سال قبل یہ معلوم وہا کہ عمر کو گردوں کو مسئلہ ہے، لیکن چونکہ اس وقت ان کے گردے بالکل صحیح کام کر رہے تھے لہٰذا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ لیکن 2021 میں ان کو کورونا ہوگیا۔ کورونا کے بعد ہمیں لگا تھا کہ یہ ٹھیک ہو جائیں گے، مگر ایسا نہ ہوا اور ان کی تکلیف بڑھتی گئی۔

ڈاکٹروں نے ان کو فوری ڈائیلاسز کروانے کا کہا اور گردے ٹرانسپلانٹ کرنے کا کہا، ہم دونوں کسی سے بھی کچھ نہیں مانگنا چاہتے اور پھر گردوں کو مانگنا تو یہ بہت بڑی بات ہے کہ فیملی میں بھی کسی سے ایسی بات کی جائے۔ اس وقت میں نے فیصلہ کیا کہ عمر کی جان بچانے کے لیئے میں یہ قربانی بھی دوں گی لیکن چونکہ ہم کزنز نہیں تھے نہ ہمارا کوئی خونی رشتہ تھا اس میں سب سے بڑا چیلنج تھا کہ ہماراگردہ میچ ہو جائے۔ اس کے لیے بہت دعائیں کیں، جب ٹیسٹ کروایا تو معلوم ہوا کہ خُدا کے شکر سے وہ بھی میچ ہوگیا۔

میرے شوہر نے ڈاکٹر سے صرف میری طبیعت کا پوچھا اور یہ پوچھا کہ یوں ٹرانسپلانٹ کروانے سے مجھے تو کوئی تکلیف نہیں ہوگی، جب مجھے آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا تو میرے شوہر رو رہے تھے انہیں بس یہ تھا کہ ایک دفعہ وہ مجھے دیکھ لیں۔

ڈاکٹرز بھی ہمیں مذاق میں لو برڈز کہتے تھے
کیونکہ ہمیں ایک دوسرے کا اتنا خیال کرتے تھے۔ عمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: جہاں میرے لیے بیماری زندگی کا مشکل مرحلہ تھی، وہیں یہ فخر بھی تھا کہ خوشی و غم میں ساتھ نبھانے کی دعویدار میری اہلیہ اسما حقیقتاً بھی میری صحت کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے میں پیش پیش رہیں۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

18 − 13 =

Back to top button