مریخ سے چٹانوں کے نمونے واپس کیسے آئیں گے؟

لاک ہیڈ مارٹن کے اسپیس ڈیویژن ناسا کا اہم معاہدہ اپنے نام کرلیا۔

پیر کے روز امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے بتایا ہے کہ لاک ہیڈ مارٹن نے 2030 میں مریخ سے پہلے چٹانی نمونے واپس لانے والے راکٹ کو بنانے کا معاہدہ اپنے نام کر لیا ہے۔ناسا کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ یہ چھوٹا اور کم وزن راکٹ پہلا راکٹ ہوگا جو دوسرے سیارے سے پرواز بھرے گا اور مریخ سے زمین پر ’چٹان، باقیات اور ماحولیاتی نمونے‘ لے کر آئے گا۔ناسا کا پرزیورنس روور مریخ کی سطح پر ایک سال قبل پہنچنے کے بعد سے مختلف علاقوں سے نمونے جمع کر رہا ہے۔اس مشن کا مقصد سیارے پر قدیم زنگی کے آثار کا پتہ لگانا ہے۔ لیکن ان نمونوں کا تجزیہ تب ہی ممکن ہو سکے گا جب یہ واپس زمین پر آئیں گے کیوں کہ زمین پر مریخ کی نسب کہیں بہتر انداز میں تجربے کیے جاسکتے ہیں۔یہ نمونے جمع کیے جائیں گے اور ایک پیچیدہ آپریشن کے تحت واپس زمین پر بھیج دیے جائیں گے جس میں لاک ہیڈ مارٹن کا راکٹ اہم عنصر ہوگا۔ناسا کے مطابق مارس پر جانے والے اس راکٹ کے معاہدے کی ممکنہ مالیت 19 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز ہے۔خلائی ایجنسی کے منصوبوں کے مطابق 2026 تک ایک منی-راکٹ مریخ پر بھیجا جائے گا جس پر ایک اور روور ہوگا جو پرزیورینس کے چھوڑے ہوئے نمونوں کو جمع کرے گا۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published.

4 × 5 =

Back to top button