ملائشیامیں کاپی رائٹ کی خلاف وزری پر 20 سال قید کا قانون منظور

ملائیشیا کی حکومت نے کاپی رائٹس قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دینے کی ترمیم منظور کرلی ہے۔

ملائشیین حکومت کی جانب سے کاپی رائٹ( حقوق املاکِ دانش ) قوانین میں ہونے والی نئی ترامیم کے بعد غیر قانونی اسٹریمنگ پر 20 سال قید کا قانون نافذ کردیا گیا ہے۔مقامی اخبار ٹورینٹ فریک میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا میں حکومت کی جانب سے کاپی رائٹس قوانین میں پیش کی گئی ترامیم کو منظوری مل گئی ہے جس کے تحت اگر کوئی فرد ایسی اسٹریمنگ سروسز یا ڈیوائسز فروخت کے لیے پیش کرتا ہے جس سے کسی فرد یا ادارے کے کاپی رائٹ حقوق کی خلاف ورزی ہو تو مذکورہ فرد کو 20 سال قید اور 2 ہزار377 امریکی ڈالر جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جاسکتی ہیں۔نئے ترمیم شدہ قوانین میں ایسی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جو پائریسی یا غیر قانونی اسٹریمنگ خدمات فراہم کرتی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاپی رائٹ کا قانون دنیا بھر میں ڈیجیٹل پائریسی کی روک تھام کے لیے استعمال ہورہا ہے، لیکن اس باوجود غیر قانونی طریقے سے فلمیں، سافٹ ویئر اور ڈیزائن کی چوری کا سلسلہ جاری ہے۔ملائیشیا میں ان ترامیم سے قبل حکومت ہائی کورٹ کی منظوری کے بغیر بنا لائسنس، چوری شدہ  پراڈکٹس اور اسٹریمنگ ڈیوائسز فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی تھی۔ تاہم قوانین میں ہونے والی ترامیم میں سخت سزاؤں کے بعد امید ہے کہ ملائیشیا میں جعل سازی کا یہ سلسلہ رک سکے گا۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button