منکی پاکس کے کیسز کا خدشہ: قومی ادارہ صحت نے الرٹ جاری کر دیا

دنیا کے مختلف ممالک میں نئے وائرس منکی پاکس کے کیسز سامنے آنے کے بعد قومی ادارہ صحت نے منکی پاکس سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔

کورونا کے بعد منکی پاکس کے وائرس نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اور اب تک دنیا کے 11 ممالک میں اس بیماری کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔قومی ادارہ صحت نے وفاقی اور صوبائی صحت حکام کو منکی پاکس کے  مشتبہ کیسز سے متعلق ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ این آئی ایچ نے منکی پاکس کے خطرے کے پیش نظر ملک کے تمام داخلی راستوں اور ائیرپورٹس پر مسافروں کی نگرانی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔قومی ادارہ صحت کے ماہرین نے ملک بھرکے بڑے سرکاری و نجی اسپتالوں کوبھی آئسولیشن وارڈقائم کرنے کے لیے تیار رہنے کی  بھی ہدایت کی ہے۔قومی ادارہ صحت کے ماہرین نے ہسپتالوں میں موجود طبی عملے کو  منکی پاکس کے مشتبہ مریضوں سے احتیاط سے پیش آنے کا مشورہ دیا ہے۔ماہرین کے مطابق منکی پاکس وائرس جانوروں سے جانوروں اور اب انسانوں میں منتقل ہوگیا ہے جب کہ  دنیا میں منکی پاکس کے 92 کنفرم اور 28 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ منکی پاکس متاثرہ شخص کو ہاتھ لگانےاور دانوں کی رطوبت لگنے سے پھیلتا ہے۔محفوط ممالک کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے: عالمی ادارہ صحتدوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز کے خدشے کے پیش نظران ممالک کی نگرانی بڑھا دی ہے جہاں ابھی تک یہ بیماری رپورٹ نہیں ہوئی۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ گزشتہ روز12 رکن ممالک سے منکی پاکس کے 92 مصدقہ اور 28 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں جہاں یہ وائرس پہلے سے موجود نہیں تھا۔ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا کہ وہ آئندہ دنوں میں منکی پاکس کے پھیلائو سے روکنے سے متعلق رہنمائی اور مشورے بھی فراہم کریں گے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تاریخ میں پہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلتا جارہا ہے اور اس کی تشخیص ایسے افراد میں بھی ہو رہی ہے جو کبھی افریقی ممالک گئے ہی نہیں۔منکی پاکس ایک ایسا وائرس ہے جو جنگلی جانوروں میں پایا جاتا ہے اور اکثر ان سے انسانوں کو بھی لگ جاتا ہے۔اس وائرس کے زیادہ تر کیسز ماضی میں افریقا کے وسطی اور مشرقی ممالک میں پائے جاتے تھے۔ پہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں اس وقت ہوئی تھی جب ایک تحقیق کے دوران کچھ سائنس دانوں کو بندروں کے جسم پر پاکس یعنی دانے نظر آئے ،اسی لیے اس بیماری کا نام منکی پاکس رکھ دیا گیا تھا۔انسانوں میں اس وائرس کے پہلے کیس کی شناخت 1970 میں افریقی ملک کانگو میں ایک 9 سالہ بچے میں ہوئی تھی۔ متعدی بیماریوں کے ماہر ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈیوڈ ہیمن نے کہا ہے کہ اب یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کی طرح پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

twelve − five =

Back to top button