مکان بھی اپنانہیں،ایک وقت کی روٹی کے لیے ترس جاتے ہیں،چھوٹی سی عمر میں امی کی دوائی کے لیے مزدوری کرنا شروع کر دی

خاوند کے انتقال کے بعد 4 بچوں کو اکیلے پال رہی ہوں۔ جی ہاں یہ الفاظ ہیں پاکستان کی ایکانتہائی غریب فیملی کی ماں کے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ غربت انسان سے وہ سب کچھ کرواتی ہے جس کا اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔تو بالکل اسی طرح بچوں کی بھوک مٹانے کی خاطر ماں جب گاؤں میں کسی بڑے پیسے والے شخص کے جانوروں کیلئے چارا کاٹتی تھی۔تو اس کا سر ٹوکہ مشین میں آ گیا اور شدید زخمی ہو گیا۔ مزید یہ کہ اب تو بس کوئی گاؤں والا ہی 200 یا 300 دے جائے تو شکر کرتے ہیں اور کھانا بھی ایک وقت کھاتے اور ایک وقت بھوکے رہتے ہیں۔اور تو اور حالات کی ستم ظریفی تو دیکھیں کہ جس گھر میں جانور بھی رہنا پسند نہ کریں وہاں یہ ماں اکیلی بچوں کو لے کر رہتی ہے۔اس کے علاوہ آپکو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ماں کی دوائی کی خاطر گھر کا بڑا بچہ پڑھائی چھوڑ کر محنت مزدوری کرتا ہے، اپنے کپڑوں کا بھی اسے خیال نہیں بس کہتا ہے کہ کسی طرح پیسے مل جائیں اور والدہ کی دوائی لے آؤں۔معصوم سے بچے کے ان الفاظوں نے تو جیسے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہو۔ مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ اللہ پاک ہمیشہ انسان کے دن ایک جیسے نہیں رکھتا اور وہ ہماری مدد ضرور کرتا ہے۔جی ہاں یہ بات کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس خاندان کے بھی دن بدلنے کیلئے اللہ نے این جی او راہ انسانیت کو ان کے گھر پہنچا دیا جس نے انہیں راشن اور پیسے دیے ساتھ ہی ساتھ اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی کہ آج سے اللہ کے کرم سے ان کا خیال پورا رکھا جائے گا۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

five × 2 =

Back to top button