’میٹا ورس کے لیے موجودہ کمپیوٹنگ پاور سے 1000 گُنا زیادہ کی ضرورت ہوگی‘

ٹیکنالوجی کمپنی انٹیل نے دعویٰ کیا ہے کہ میٹا ورس کو موجودہ میسر کمپیوٹنگ پاور سے 1000 گُنا زیادہ پاور کی ضرورت ہوگی۔

فیس بک کا ماننا ہے کہ ہم جس طرح سے کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں میٹا ورس اس کا مستقبل ہوگا۔انٹیل کے نائب صدر راجا کودوری لکھتے ہیں کہ لفظ ’میٹا ورس‘ 30 برس قبل مصنف نیل اسٹیفنسن نے اپنے سائنس فکشن ناول میں استعمال کیا تھا۔تاہم نائب صدر نے اپنے خلاصے میں یہ نہیں لکھا کہ اسٹیفنسن نے اپنے ناول اسنو کریش میں میٹا ورس کو ایک غریب اور مایوس قوم دِکھایا ہے جس پر کارپوریٹ فرینچائزز حکومت کرتی ہیں جو ضروری ہے کیوں کہ حقیقی دنیا جینے کے لیے ناقابلِ برداشت ہوچکی ہے۔تاہم، نائب صدر نے کہا کہ اس انڈسٹری کو ورچوئلی ایسا ماحول بنانے اور بڑی تعداد میں ڈیوائسز کو جوڑنے کے لیے مزید طاقتور کمپیوٹنگ صلاحیت چاہیئے ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی طور پر انتھک اور تھری ڈی ماحول بنانے والی کمپیوٹنگ، جو بڑے پیمانے پر انسانوں کی رسائی میں ہو اور جس کی کمپیوٹنگ طاقت موجودہ کمپیوٹر سے 1000 گُنا زیادہ ہو۔میٹا کی ہورائزن ورلڈ،جو اس کا فیلگ شپ وی آر ایکسپیرئنس ہے، فی الوقت ایک وقت میں 20 لوگوں کوسپورٹ کر سکتا ہے۔مورس لاء کے مطابق کمپیوٹیشنل صلاحیت ہردو سالوں دُگنی ہوتی ہے۔ جس کا مطلب ہے حقیقی میٹا ورس کے وجود میں آنے میں ابھی کافی وقت ہے۔انٹیل،سام سنگ اور آئی بی ایم جیسی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں۔ سام سنگ اور آئی بی ایم نے حال ہی میں ایک نئی سیمی کنڈکٹر چِپ کی پیشکش کی ہے جو ٹرانزسٹر ڈیزائن میں انقلاب برپا کر دے گا۔کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کارکردگی میں دو گُنا بہتری یا انرجی کے استعمال میں 85 فی صد کمی کر سکتے ہیں اور اسمارٹ فونز کی بیٹریوں کو ایک ہفتے تک چلنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button