میں نے اپنے 2 بچوں کو دنیا میں آنے سے پہلے کھویا ہے ۔۔ نادیہ افگن نے ماں نہ بننے والے بیان کی وضاحت کردی، سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

ماں بننا کسی بھی عورت کے لیے سب سے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ ہر عورت کی خؤاہش ہوتی ہے کہ اس کو خدا اولاد سے نوازے اس کی گود بھر دے۔ لیکن کچھ خواتین اس اعزاز سے محروم بھی رہ جاتی ہیں۔ کچھ کو ماں بننے کے لیے شدید انتظار اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اداکارہ نادیہ افگن بھی ان خواتین میں سے ایک ہیں جن کے ہاں اولاد جیسی نعمت نہیں ہے۔ اداکارہ نے کچھ دنوں پہلے احسن خان کے شو میں بتایا تھا کہ:”
” میری اور جواد جودی کی شادی کو جون میں 15 سال مکمل ہوگئے۔ ہم دونوں کی دوستی بہت اچھی ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے لیے کھڑے رہتے ہیں۔ ہر وقت ایک دوسرے کے پیچھے لگے نہیں رہتے۔ دونوں مزے سے زندگی کو انجوائے کرتے ہیں۔ میں ٹھنڈے مزاج کی بھی اپنی شوہر کی وجہ سے ہوں۔ ”

ہمارے پاس دو کتے ہیں لیکن بچے نہیں ہیں۔ ایک بار میں نے بچوں سے متعلق سوچا لیکن منصوبہ بندی نہیں کی کیونکہ میں بچوں کے مستقبل کے حوالے سے خوفزدہ تھی اور آج بھی ہوں۔ میں اپنے بھائیوں کے بچوں کے حوالے سے بھی پریشان رہتی ہوں۔ کیونکہ آج کل کا دور بہت الگ ہے۔ اس دور میں جن کے بچے ہیں وہ واقعی سمجھدار اور ہمت والے لوگ ہیں۔ ایک بار ہم نے بھی سوچا تھا کہ ہمارے اپنے بھی بچے ہونے چاہیئیں لیکن پھر میں نے سوچا کہ دنیا میں بہت سے بچے ہیں۔

اس بیان پر نادیہ کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے جواب میں حقیقت بتاتے ہوئے نادیہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی اور سچ بتایا کہ:

میں نے برسوں پہلے فیصلہ کیا تھا کہ میں اس کے بارے میں کبھی بھی عوامی سطح پر بات نہیں کروں گی کیونکہ یہ بہت تکلیف دہ تھا۔ یہ اب بھی ہے لیکن اس کی ضرورت ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ میں حیران ہوں کہ میرے بیان پر خواتین نے بھی منفی رائے کا اظہار کیا۔
میں اس بات پر یقین رکھتا تھی کہ تمام خواتین، چاہے ان کے بچے ہوں یا نہ ہوں، جانتی اور سمجھتی ہوں گی کہ یہ معاملہ کتنا ذاتی ہے۔ مجھے ہمییشہ یقین تھا کہ تمام خواتین سمجھتی ہیں کہ یہ سفر تکلیف دہ ہو سکتا ہے لیکن پچھلے دنوں میں مجھے سمجھ آگیا کہ میں کتنی غلط تھی۔
ہم چاہتے تھے کہ ہمارا بھی ایک بچہ ہو لیکن اللہ کے منصوبے الگ تھے۔ماں بننے کی کوشش کر چکی ہوں لیکن 2 مرتبہ بچہ پیدا ہونے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔ میرے 2 اسقاطِ حمل ہوچکے ہیں۔
میں نے تین ناکام آئی یو آئی (بے اولادی کا علاج) کروا لیے ہیں۔ میں نے دو بچوں کو ان کی پیدائش سے پہلے کھونے کے بعد ڈپریشن کا مقابلہ بھی کیا ہے۔

ہم آئی وی ایف کے لیے تیار تھے لیکن میں صرف اس لیے یہ نہیں کر سکی کہ میں ایک اور جذباتی اور جسمانی طور پر نڈھال کر دینے والے عمل کے بعد حمل کے ٹیسٹ پر صرف ایک لائن کی اذیّت کو برداشت نہیں کر سکتی تھی
۔ میرے شوہر نے اس تکلیف کو سمجھا اور ہم دونوں نے مل کر بچوں کو جنم نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

twenty − two =

Back to top button