ناسا نے سیارچوں کی نگرانی کا نظام مزید بہتر کر دیا

ناسا کے سیارچوں کی نگرانی کرنے والے سسٹم کو اپ گریڈ کردیا گیا ہے جس کے بعد ہر 24 گھنٹے میں ایک بار رات میں آسمان کو اسکین کیا جائے گا کہ ممکنہ طور پر زمین کی جانب آتے خطرناک سیارچے کا پتہ لگ سکے۔

ایسٹیرائڈ ٹیریسٹریل-امپیکٹ لاسٹ الرٹ سسٹم (ATLAS) دنیا سے ٹکرانے کا امکان رکھنے والے سیارچوں اور ملبے کا پتہ لگانے کے لیے اہم ہے اور اس کو یونیورسٹی آف ہوائی کے انسٹیٹیوٹ آسٹرونومی سے آپریٹ کیا جاتا ہے۔ATLAS ہوائی میں دو ٹیلی اسکوپ سے شروع ہوئی تھی لیکن یہ اب اس نے مزید وسعت اختیار کی ہے اور جنوبی ہیمِسفیئر میں دو اور ٹیلی اسکوپ شامل کی گئیں ہیں، جس کے بعد اب آسمان کا مکمل نظارہ ہوتا ہے۔سسٹم میں جڑنے والی دو نئی ٹیلی اسکوپ چلی اور جنوبی افریقا میں واقع ہیں اور ان کے ساتھ ہوائی میں موجود دو ٹیلی اسکوپ ایک سنگل ایکسپوژر میں رات کے آسمان کی چودھویں کے چاند سے 100 گُنا زیادہ بڑی تصویر کھینچ سکتی ہیں۔یہ ماہرینِ فلکیات کو ایک ممکنہ طور پر زمین کے قریب خطرناک خلائی اشیاء کی موجودگی کی نشاندہی ہفتوں پہلے کرنے کے قابل بنادے گا۔نیئر-ارتھ آبجیکٹ آبزرویشنز پروگرام مینیجر برائے ناسا کے پلینیٹیری ڈیفنس کو آرڈینیشن آفس کیلی فاسٹ نے ایک بیان میں کہا کہ سیاروی دفاع کے لیے اہم چیز یہ ہے کہ ہم سیارچوں کو ڈھونڈیں، اس سے قبل وہ ہمیں ڈھونڈیں۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published.

twelve − three =

Back to top button