ناسا کا روور نئی سائنسی مہم کے لیے مریخ کے قدیم ڈیلٹا پر پہنچ گیا

اپنی پہلی سائنسی مہم میں آٹھ چٹانوں کے نمونے اکٹھے کرنے اور ریکارڈ 31 مریخی دن میں مریخ کی سرزمین پر 5 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ناسا کا پرزیورینس روور 13 اپریل کو جیزیرو گڑھے کے قدیم دریائی ڈیلٹا کے دہانے پر پہنچ گیا۔پرزیورینس ٹیم کی جانب ’تھری فورکس‘ نام پانے والا یہ علاقہ روور کی دوسری سائنسی مہم بننے ولا ہے جس کا نام ’ڈیلٹا فرنٹ کمپین‘ ہوگا۔واشنگٹن میں ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زُربوکین کا کہنا تھاکہ جیزیرو گڑھے پر موجود یہ ڈیلٹا حقیقی ارضیاتی خزانہ ہے اور مریخ کی ایک ایسی بہترین جگہ ہیں جہاں پر ماضی میں موجود مائیکرو اسکوپک زندگی کے آثار ڈھونڈے جاسکتے ہیں۔Another pink letter day on the Red Planet. @NASAPersevere has arrived on the historic river delta it got here to discover: https://t.co/njLGTvTdW9 The Ingenuity #MarsHelicopter, which right this moment marks the anniversary of its first flight, will proceed to scout the best way https://t.co/k4v5JRTp0C pic.twitter.com/jUGnFNDBOm

— NASA Mars (@NASAMars) April 19, 2022

انہوں نے مزید کہا کہ جوابات وہاں موجود ہیں اور ٹیم پرزیورینس ان کو ڈھونڈنے کے لیے تیار ہے۔جیزیرو گڑھے کے مغربی کنارے پر موجود چٹانوں اور ذخائر کا مجموعہ یہ ڈیلٹا اربوں سال پہلے مریخی دریا اور گڑھے کی جھیل کے ملنے کی جگہ بنا۔اس جگہ کے معائنے میں ٹیم کی دلچسپی اس لیے ہے کہ یہاں پر موجود ذخائر میں ایسی باقیات مل سکتی ہیں جس سے قدیم مائیکروبائل زندگی کا پتہ لگ سکے۔مریخ سے چٹانوں کے نمونوں کو واپس لانے کے مشن کے پہلے حصے مین روور اپنے روبوٹک بازو سے ڈرل کر کے اپنے اندر زخیرہ کر رہا ہے جس کو بعد ازاں زمین پر لایا جائے گا۔ Double Click 300X250



Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

19 − 5 =

Back to top button